خطبات محمود (جلد 9) — Page 281
281 شخص جنت میں اور نہ لانے سے دوزخ میں جاتا ہے۔یہ وہ توحید اور تعلیم توحید ہے۔جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے پیش کی۔پچھلے صوفیاء نے بھی توحید پیش کی ہے۔سید عبد القادر جیلانی نے فتوح الغیب میں اور ان سے دوسرے درجہ پر محی الدین ابن عربی نے اس کے قریب قریب مفہوم پیش کیا مگر وہ اس حد تک نہیں پہنچ سکے۔لیکن حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے چند سطروں میں اس ساری حقیقت کو بیان کر دیا کہ کوئی شخص محض خیال پر ایمان نہ رکھے بلکہ رؤیت پر رکھے تب جا کر توحید مکمل ہوتی ہے اور ایک آدمی پورا موحد کہلا سکتا ہے۔سید عبد القادر جیلائی اور محی الدین ابن عربی نے جو کچھ بیان کیا۔وہ بھی عجیب کیفیت رکھتا ہے مگر ابن عربی تو وحدت وجود کی طرف نکل گئے اور سید عبد القادر اپنے حال بیان کرنے میں لگے رہے۔کہ میں نے یہ دیکھا اور مجھے یہ نظر آیا۔لیکن حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اور آگے بڑھ کر فرمایا۔توحید صرف حال نہیں بلکہ مقصد ہے اور اس مقصد کے حصول کی کوشش کرنی چاہیے۔انسان محض خیال پر نہ ایمان رکھے بلکہ رؤیت اور مشاہدہ پر رکھے۔تب وہ توحید ہو سکتی ہے جو اصل مقصد ہے۔شائد کوئی کہے کہ تم اپنے قول سے آپ پکڑے گئے۔اگر عبد القادر جیلانی اور محی الدین ابن عربی نے بھی توحید کے متعلق وہ بات بیان کی جو حضرت مرزا صاحب نے بیان کی اور خدا سے علم حاصل کر کے کی تو پھر حضرت مرزا صاحب میں ان سے بڑھ کر کونسی بات ہے لیکن ہم نے کب کہا ہے کہ ان کا علم خدا سے حاصل کردہ نہ تھا۔بے شک ان کا علم خدا سے ہی حاصل کیا ہوا تھا لیکن نور نبوت نہ ہونے کی وجہ سے ان کا علم کامل نہ تھا۔اس لئے ابن عربی تو وحدت وجود کی طرف نکل گئے اور سید عبد القادر حال کی کیفیات بیان کرنے تک محدود ہو گئے۔اس سے آگے ایک قدم بھی نہ اٹھا سکے اور ہرگز اصول بتانے کی طرف نہ آئے۔جن سے دوسرے لوگ بھی فائدہ اٹھا سکتے۔لیکن حضرت مسیح موعود نے اصول بیان کئے اور آپ میں اور ان میں بیٹی تو فرق ہے کہ حضرت مسیح موعود نے آکر توحید کے اصول اور مقاصد بیان فرمائے مگر ان لوگوں نے ایسا نہ کیا۔پس ان میں فرق حال اور اصول کا ہے اور یہ اتنا بڑا فرق ہے کہ اس کے ہوتے ہوئے یہ نہیں کہا جاسکتا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے مبعوث ہو کر توحید کو اس سے زیادہ پیش نہیں کیا۔جتنا کہ سید عبد القادر جیلائی اور محی الدین ابن عربی نے کیا۔رہے مولوی۔وہ تو ایسا کرہی نہیں سکے۔باوجود اس کے کہ آج سے ۶۰۰ سال پہلے بھی مولوی موجود تھے۔پھر ان میں نیک بھی تھے۔پرہیز گار بھی تھے مگر