خطبات محمود (جلد 9) — Page 252
252 باری سے یہی صورت پیدا ہو جائے تو یہ دن مسلمانوں کے لئے موت کا دن ہو گا اور پھر وہ دنیا میں منہ دکھانے کے قابل نہیں رہیں گے۔میں یہ نہیں کہتا کہ مدینہ پر چڑہائی ہوہی نہیں سکتی۔چڑہائی تو ہو سکتی ہے لیکن اس طرح نہیں کہ مقدس مقامات کے احترام کا خیال نہ رکھا جائے۔جن سے مسلمانوں کی مقدس روایات وابستہ ہیں۔وہاں اس صورت میں چڑہائی ہو سکتی ہے جب کہ وہاں کے لوگ جس کے ماتحت ہوں اس کے خلاف بغاوت کریں۔میرے نزدیک اس صورت میں اسلامی احکام کی رو سے جائز ہے کہ وہ حملہ کر دے لیکن ایسے حملے میں بھی ان باتوں کو ضروری طور پر طحوظ رکھنا پڑے گا کہ اس قسم کی عمارات اور دیگر آثار کو نقصان نہ پہنچے مگر اہل مدینہ نجدیوں کے ماتحت نہیں تھے جن پر حملہ کیا گیا ہے اور پھر اس میں اس قدر بے احتیاطی اور لاپرواہی دکھائی گئی ہے۔ان نجدیوں سے تو ترک ہی ہزار درجہ بہتر تھے۔انہوں نے جب شریف کے بغاوت کرنے کی وجہ سے مکہ پر گولہ باری کی اور ایک گولہ حرم کے قریب جاگرا اور اس کے پردے کو آگ لگ گئی تو اس پر انہوں نے فی الفور ہتھیار ڈال دیئے اور کہہ دیا کہ ہم حملہ نہیں کرتے۔تم ہی قابض رہو لیکن نجدیوں نے جو حملہ کیا وہ نا معقول سے نامعقول آدمی کے نزدیک بھی کوئی عمدہ کام نہیں اور پھر ان کی اس گولہ باری کو دیکھ کر جس سے مقامات مقدسہ، مسجد نبوی مسجد و مزار سیدنا حمزہ اور پھر سب سے بڑھ کر آنحضرت ﷺ کے روضہ مبارک کو نقصان پہنچ رہا ہے۔کوئی شخص نہیں جو انہیں اچھا سمجھ سکے یا ان کے حملے کو مناسب خیال کرے۔پس نجدیوں کے حملے نے ایک نازک حالت پیدا کر دی ہے اور اس قسم کے خطرہ کی صورت ہو گئی ہے کہ زیادہ نقصانات ہو جانے پر اگر دشمنوں کی طرف سے اعتراض ہوا تو ہمارے پاس کوئی جواب نہیں ہو گا۔پس میں اس موقع پر خاموش رہنا پسند نہیں کرتا اور اس خطبہ کے ذریعے یہ اعلان کرتا ہوں کہ ہم نجدیوں کے اس فعل کو نہایت نفرت اور حقارت کی نظر سے دیکھتے ہیں اور جو لوگ ان کی تائید کر رہے ہیں ان کے سینے رسول کریم ﷺ کی محبت سے خالی سمجھتے ہیں۔شوکت علی صاحب اخبارات میں یہ اعلان تو کر رہے ہیں کہ سیٹھ چھوٹانی نے مجھ پر حملہ کیا اور میری ماں کو گالیاں دی ہیں اور اس طرح لوگوں کی ہمدردی حاصل کرنا چاہتے ہیں۔اگرچہ چھوٹانی صاحب نے گالیاں دینے سے انکار کیا ہے۔لیکن اگر یہ بات درست بھی ہو تو ان پر حملہ کرنا اور ان کی ماں کو گالیاں دنیا کیا اس سے بھی بڑا ہے کہ مدینہ پر حملہ کیا جائے اور روضہ مبارک کو نقصان