خطبات محمود (جلد 9) — Page 242
242 آیا۔ورنہ اگر وہ یہ تعریف نہ سمجھتا تو ایسا نہ کرتا۔یہ نبی کے متعلق غلط خیال کا ہی نتیجہ تھا۔پس اگر یہ فیصلہ ہو جائے کہ نبی کے کیا کام ہوتے ہیں۔تو پھر کسی اور طرف جانے کی ضرورت نہیں رہتی۔جس کام کے لئے نبی آتا ہے اسے دیکھنا چاہیے اگر ایک مدعی نبوت اس کام کو کرلے تو یقیناً وہ سچا ہے خواہ لوگوں کے دماغوں میں ہزاروں کام ایسے ہوں۔جو نبی نے نہ کئے ہوں۔ان سے اس کو کوئی واسطہ نہیں ہو گا اور نہ ہی ان کی بناء پر اس کی سچائی کو یا اس کی آمد کی ضرورت کو پر کھا جا سکتا ہے۔پس یہ سوال کہ حضرت مرزا صاحب نے کیا کیا۔ہمیں عام کرنا چاہیے اور سوال اٹھانے والوں سے یہ پوچھنا چاہیے کہ وہ نبی کا ایسا کام بتائیں۔جو پہلے انبیاء نے کیا ہو۔لیکن چونکہ جن لوگوں کو یہ سوال پیدا ہوا اور ہوتا ہے وہ اس وقت میرے سامنے نہیں ہیں کہ میں ان سے پوچھ سکوں اور وہ دوست جس نے یہ سوال میرے سامنے پیش کیا ہے۔شائد وہ بھی اس وقت یہاں موجود نہیں۔اس لئے میں یہ سوال پیش کر دینے پر ہی اکتفا نہیں کرتا اور نہ اس طرح اپنے آپ کو ذمہ داری سے سبکدوش سمجھتا ہوں اس لئے میں خود ہی بتاؤں گا جن کے رو سے کسی مدعی نبوت کو پرکھا جا سکتا ہے۔اس سوال پر غور کرتے ہوئے ہم صاحب شریعت نبیوں کو علیحدہ رہنے دیتے ہیں۔رسول اللہ ا اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کے علاوہ دو اور نبیوں کو مسلمان صاحب شریعت نبی بتاتے ہیں اور زبور اور انجیل دو کتابیں شریعت کی قرار دیتے ہیں۔اگر چہ ان کے دیکھنے سے معلوم ہو کہ ان میں کوئی شریعت کی بات نہیں۔تاہم ہم تسلیم کر لیتے ہیں کہ ایسے چار نبی ہیں۔سلسلہ موسویہ اور سلسلہ محمدیہ کے ان چار نبیوں کو الگ کر لینے کے بعد موسوی سلسلہ میں سینکڑوں ہزاروں انبیاء گزرے ہیں لیکن ان پر شریعت نہیں اتری۔حضرت یحییٰ اور حضرت زکریا علیہ السلام پر کوئی کتاب نہیں اتری۔حتی کہ ایک بھی حکم نہیں جو ان پر اترا ہو اور نہ ہی وہ اس بات کے مدعی ہوئے اور نہ ہی مسلمانوں کا ان کے متعلق یہ دعوئی ہے کہ ان پر شریعت اتری۔بڑی بڑی تفسیر والوں نے بھی یہی لکھا ہے کہ ان پر کچھ نہیں اترا اور اگر کسی نے کہا بھی کہ ان پر کچھ اترا تو انہوں نے عقلاً اور نقلاً اس کا رد کر دیا۔اس طرح شریعت کا سوال تو اڑ گیا کیونکہ یہ ثابت نہیں ہوتا کہ ان لاتعداد انبیاء میں سے سب کے سب شریعت لے کر آئے تھے۔بلکہ یہی ثابت ہوتا ہے کہ صرف یہی دو نبی شریعت لائے تھے اور اگر باقی دو کے متعلق بھی تھوڑی دیر کے واسطے ہم یہ تسلیم کر لیں کہ وہ بھی کتاب لائے تو دو کی جگہ چار سہی لیکن باقیوں کے متعلق کوئی نہیں کہہ سکتا کہ وہ بھی شریعت