خطبات محمود (جلد 9) — Page 194
F 194 جائے اور تھپڑ کے بدلے اس کو تھپڑ مارا جائے تو وہ ایک تھپڑ سے بے ہوش ہو کر گر پڑے گا۔تو بدلہ میں یہ بھی دیکھنا پڑے گا کہ برداشت کی طاقت بھی ہے یا نہیں۔پھر یہ کہ بدلہ حد سے زیادہ تو نہیں اور پھر یہ بھی دیکھنا ہو گا کہ قانون کے مطابق ہے یا نہیں۔اگر قانون کے خلاف کوئی بدلہ لیتا ہے تو وہ خود مجرم بنتا ہے۔یعنی اگر قانون ملک اسے اجازت نہیں دیتا کہ وہ خود بدلہ لے اور الله پھر وہ لیتا ہے۔تو خود مجرم بنتا ہے۔ایک شخص نے رسول اللہ اتنا ہی سے پوچھا اگر میں اپنی عورت کے پاس کسی غیر مرد کو بیٹھے دیکھوں اور اسے قتل کر دوں تو مجھ پر کوئی الزام تو نہ آئے گا۔آپ نے فرمایا تم اگر قتل کرو گے تو قاتل ٹھہرائے جاؤ گے۔بعضوں نے اس کی سزا قتل اور لبعضوں نے کوڑے ہی رکھے ہیں۔مگر شریعت اور قانون اس کو یہ اجازت نہیں دیتا کہ وہ خود سزا دے بلکہ شریعت یہی کہے گی کہ تم اس معاملہ کو حکومت کے سامنے پیش کرو۔تو بدلہ لینے کی بھی کئی صورتیں ہوتی ہیں۔اور گو بدلہ لینا طبعی تقاضے کے ماتحت ہے۔لیکن طبعی تقاضوں کو بھی موقع اور محل کے مطابق پورا کرنا ضروری ہوتا ہے۔مثلاً خدا تعالیٰ نے سورج پیدا کیا ہے اب ایک شخص اس خیال سے کہ خدا نے سورج اس لئے پیدا کیا ہے کہ اس سے فائدہ اٹھایا جائے۔ہر وقت دھوپ میں بیٹھا رہتا ہے۔تو اس کا لازمی نتیجہ یہ ہو گا کہ وہ سن سٹروک میں مبتلا ہو جائے گا۔اور دو چار دن میں اسے شدید بخار ہونے لگ جائے گا۔یا وہ سردی کے دنوں باہر برف میں پڑا رہتا ہے۔اس خیال سے کہ برف خدا نے اسی لئے پیدا کی ہے کہ اس کو اس طرح استعمال کیا جائے۔تو وہ نمونیا یا کسی اور شدید مرض میں مبتلا ہو کر مر جائے گا۔دیکھو بارش برستی ہے تا لوگ اس سے فائدہ اٹھائیں۔مگر کسی زمیندار کو نہیں دیکھو گے کہ وہ بارش کا سارے کا سارا پانی اپنے کھیت میں ڈال لے۔بلکہ جب دیکھے گا کہ پانی زیادہ ہو گیا ہے۔تو فورا بند کاٹ کر نکال دے گا۔کیونکہ وہ جانتا ہے کہ سارے کا سارا بارش کا پانی اس کے کھیت کے لئے نہیں بلکہ اس سے ڈہا ہیں وغیرہ بھی بھرتی ہیں۔جن سے اور بہت سے فوائد حاصل ہوتے ہیں۔تو ایک ہوشیار کسان مستعد کھڑا موقع کو دیکھتا رہتا ہے۔اگر پانی زیادہ آگیا ہو تو نکال دیتا ہے۔اور ضرورت سے کم ہو تو باہر سے اور پانی ڈال لیتا ہے۔غرض ہر ایک کام کرنے کے لئے موقع اور محل کو دیکھنا ضروری ہوتا ہے۔یہی بات طبعی تقاضوں کے لئے ضروری ہوتی ہے۔جب ان کو موقع اور محل کے مطابق پورا کیا جاتا ہے۔تو وہ اخلاق فاضلہ کہلاتے ہیں۔ورنہ برائیاں بن جاتے ہیں یہ طبعی امر ہے کہ جس وقت انسان کو کسی سے تکلیف پہنچتی ہے تو اسے فوراً غصہ اور جوش آجاتا ہے۔لیکن اسے یہ بھی دیکھنا چاہیے کہ اس موقع کے لئے کتنا غصہ استعمال