خطبات محمود (جلد 9)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 14 of 413

خطبات محمود (جلد 9) — Page 14

14 عقلی طور پر سوچا تو انہوں نے یہ نتیجہ نکالا کہ دنیا میں خوشی ہی خوشی ہے اور انسان کو ہر بات میں لذت اور سرور حاصل کرنا چاہیے اور کسی غم اور رنج کو دل میں جگہ نہ دینی چاہیے بلکہ ہر بات پر ہنستا چاہیے۔چنانچہ ان لوگوں کے نزدیک جو شخص مرجاتا ہے وہ گویا روز کے دکھوں سے نجات پا جاتا ہے۔کیونکہ زندگی میں کہیں وہ بیمار ہوتا ہے۔اس کو دکھ ہوتا ہے کہیں علم حاصل کرنے کی اسے فکر ہوتی ہے کہیں عزت حاصل کرنے کی۔کہیں اپنی کہیں بیوی بچوں کی۔لیکن جب مرجاتا ہے تو ان ہزار ہا غموں اور فکروں سے اسے نجات ہو جاتی ہے اس لئے ان کے نزدیک موت سے غم نہیں کرنا چاہیے۔بلکہ یہ موقع خوشی منانے کا ہوتا ہے۔اسی خیال کے لوگ ٹھگ کہلاتے ہیں۔اب تو ان لوگوں کی غرض اور ہو گئی ہے لیکن پہلے یہ بالکل مذہبی فرقہ ہوتا تھا اور ان کے نزدیک یہ زندگی ایک بڑی بھاری مصیبت کے مترادف ہوتی تھی۔اس لئے وہ عقیدہ رکھتے تھے کہ جو کسی کو مار ڈالتا ہے وہ اس پر بڑا احسان کرتا ہے۔کیونکہ مرنے کے ساتھ ہی ہزار ہا دکھوں سے جن میں وہ مبتلا تھا نجات پا گیا۔اس لئے وہ لوگوں کو قتل کرنے میں بڑا ثواب اور نیکی خیال کرتے تھے اور اس کام کے لئے اپنی زندگیوں کو وقف کرتے تھے۔ان کو مال کی کوئی طمع نہ ہوتی تھی مقتول کے مال کو ہاتھ تک نہ لگاتے تھے اور ان کو یہی یقین ہو تا تھا کہ ہم نے ایک آدمی کو قتل کر کے ایک قیدی کو آزاد کر دیا۔جیب میں پھانسی کے لئے ایک ری رکھتے تھے۔جس کسی کو اکیلے پایا پھانسی ڈالی اور مار ڈالا۔اور پھر سمجھتے تھے کہ ہم نے بڑا کام کیا اب اللہ ہم پر راضی ہو گیا۔یہ سنگدلی اور یہ خونخواری اسی خیال کا نتیجہ ہے کہ دنیا میں ہر ایک چیز غم اور دکھ کا باعث ہے یہ لوگ ڈاکٹروں اور طبیبوں پر جو مریضوں کا علاج کرتے تھے خوش نہ ہوتے تھے۔کیونکہ ان کے نزدیک ڈاکٹر اور حکیم مرض کا علاج کر کے مریض کے دکھوں کے زمانے کو اور بڑھا دیتے ہیں۔تندرست ہو کر پھر کبھی وہ بیمار پڑتا ہے۔کہیں اس کو نوکری کی فکر ہوتی ہے۔کہیں پڑھنے کی اور کہیں پڑہانے کی۔حالانکہ افضل کام یہ تھا کہ اس کو کوئی ایسی چیز دیتے جس سے وہ فوراً رخصت ہو جاتا اور اس کی پُر درد زندگی کا خاتمہ ہو جاتا۔اس لئے وہ اپنی زندگیوں کو لوگوں کے قتل کے لئے وقف کرتے تھے اور اس کام کے کرنے کے لئے اپنے آپ کو وہ خطرے اور ہلاکت میں بھی ڈال لیتے تھے۔تو اس قسم کے خیالات سے مختلف جماعتیں ہوئی ہیں۔بعض نے تو محض غم کے جذبے کو بڑھایا اور بعض نے محض خوشی کے جذبے کو ترقی دی۔کسی نے بھی اپنے احساسات کو طبعی مقام نہیں دیا۔بعض تو عقل کے پیچھے چلے۔تو انہوں نے غم کو اصلی قرار دیا۔اور بعض عقل کے پیچھے چلے تو انہوں نے خوشی کو اصل