خطبات محمود (جلد 9)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 172 of 413

خطبات محمود (جلد 9) — Page 172

172 اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بھی اس کا مطالبہ کیا ہے۔ا اور یہ حکم ہے بھی ایسا جس کی تعمیل کو ہر کوئی دیکھ سکتا ہے۔سر کے اگلے حصہ پر رکھے ہوئے بڑے بال تو ٹوپی یا پگڑی کے نیچے انسان چھپا بھی سکتا ہے۔لیکن ٹھوڑی تو چھپائی نہیں جا سکتی۔پھر آنحضرت اللہ کی فرمانبرداری اور اسلامی شعار کی حرمت کے لئے اگر ڈاڑھی رکھ لی جائے تو کونسی بڑی بات ہے۔ایک شخص نے مجھ سے سوال کیا کہ کیا ڈاڑھی رکھنا اسلام کے اصول میں سے ہے۔دیکھئے سوال کرنے والے بھی کیا کیا راہیں نکالتے ہیں۔اس کا مطلب یہ تھا کہ میں کہ دوں گا نہیں تو پھر وہ یہ کہہ دے گا کہ جب ڈاڑھی رکھنا اسلام کے اصول میں سے نہیں تو چاہے کوئی رکھے اور چاہے نہ رکھے ایک ہی بات ہے۔مگر میں نے اسے یہ جواب دیا کہ ڈاڑھی رکھنا تو اسلام کے اصول میں سے نہیں۔لیکن آنحضرت اللہ کی فرمانبرداری کرنا اسلام کے اصول میں سے ہے۔چونکہ آپ نے حکم فرمایا ہے۔کہ ڈاڑھی رکھو ۲۔اس لئے رکھنا ضروری ہے۔یہ ایسا ہی سوال ہے جیسے مثلاً کوئی پوچھے کیا لکڑیاں اٹھانا اسلامی اصول میں داخل ہے اور جب اسے کہا جائے کہ نہیں تو اس سے وہ یہ نتیجہ نکالے کہ جب اس کے باپ نے اسے لکڑیاں اٹھا کر لانے کے لئے کہا اور اس کے انکار کر دینے پر مارا تو یہ بڑا ظلم کیا۔بے شک لکڑیاں اٹھانا اصول اسلام میں داخل نہیں۔لیکن جب کوئی یہ سنے گا کہ باپ نے اس کو لکڑیاں اٹھانے کے لئے کہا اور اس نے انکار کر دیا تو کوئی بھی اس کو مظلوم قرار نہیں دے گا۔بلکہ ہر ایک اس کو ملامت کرے گا۔کیونکہ اسلام نے ماں باپ کی فرمانبرداری اور اطاعت کا حکم دیا ہے۔یا مثلاً کوئی سوال کرے کیا مجلس میں آگے ہو کر بیٹھنا کوئی اسلامی اصول کی بات ہے۔تو ہر ایک یہی جواب دے گا کہ نہیں بلکہ پیچھے بیٹھنے کو انکساری بتائیں گے۔لیکن اگر کسی کو یہ پتہ لگے کہ نبی یا خلیفہ نے اسے آگے بیٹھنے کے لئے کہا تھا اور اس نے انکار کر دیا تو پھر اس کے پیچھے بیٹھنے کو کوئی انکساری نہیں کہے گا۔کیونکہ اس نے باجود آقا کے حکم کے صدر میں بیٹھنے سے انکار کر دیا۔اسی طرح ایک سپاہی اگر کسی ڈاکٹر سے پوچھے گا کہ کیا رات کو جاگتے رہنا اچھی بات ہے تو ڈاکٹر یہ نہیں کہے گا کہ ہاں اچھی بات ہے۔بلکہ وہ یہی کے گا آرام کرنا چاہیے۔لیکن اگر اس سے وہ یہ نتیجہ نکالے کہ رات کو پہرہ کے وقت سو جانے کی سزا میں جو اس کا کورٹ مارشل کیا گیا ہے۔یہ اس پر ظلم ہوا ہے۔کیونکہ ڈاکٹر کہتا ہے کہ ساری رات جاگنا نہ چاہیے۔تو یہ درست نہیں ہو گا اس وقت ڈاکٹر بھی اسے یہی کہے گا تجھے جاگنا چاہیے تھا کیونکہ فوجی افسر کا تیرے لئے یہ حکم تھا کہ تو جاگے اور پہرہ دے۔