خطبات محمود (جلد 9)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 156 of 413

خطبات محمود (جلد 9) — Page 156

156 21 بچوں کے اخلاق کس طرح درست ہو سکتے ہیں (فرموده ۵ جون ۱۹۲۵ء) تشہد ، تعوذ اور سورہ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا : میں نے پچھلے جمعہ کے خطبہ میں بتایا تھا کہ بچوں کے اخلاق کی درستی کے لئے صحیح تربیت کا ہونا ضروری ہے اور یہ کہ تربیت کا بہترین موقع بچپن کا زمانہ ہے کیونکہ جس قسم کی تربیت طبعا" بچپن کی عمر میں ہو سکتی ہے۔وہ بڑے ہو کر بڑی عمر میں نہیں ہو سکتی۔مگر میں نے ساتھ ہی یہ بھی بتایا تھا کہ خواہ ماں باپ کتنی بھی کوشش کریں کہ ان کا بچہ بد اخلاقیوں کے بداثر سے محفوظ رہے۔جب تک بچے کی صحبت اور مجلس نیک نہ ہو گی۔اس وقت تک ماں باپ کی کوشش بچوں کے اخلاق درست کرنے میں کارگر اور مفید ثابت نہیں ہو سکتی۔بیشک ایک حد تک ان کی اچھی تربیت سے بچوں میں نیک خیالات پیدا ہوتے ہیں۔لیکن اگر بچے کی عمدہ تربیت کے ساتھ اس کی صحبت بھی اچھی نہ ہو تو بد صحبت کا اثر تربیت کے اثر کو اتنا کمزور کر دیتا ہے کہ اس تربیت کا ہونا نہ ہونا قریباً مساوی ہو جاتا ہے۔بچپن کی بد صحبت ایسی بد عادات بچے کے اندر پیدا کر دیتی ہے کہ آئندہ عمر میں ان کا ازالہ نا ممکن ہو جاتا ہے۔ایسے آدمی کے قلب میں دو متضاد کیفیتیں پیدا ہو جاتی ہیں۔ایک طرف تو ماں باپ کی نیک تربیت اس کو نیکی طرف کھینچتی ہے اور دوسری طرف بد صحبت بدی کا میلان اس کے اندر پیدا کرتی ہے۔اور وہ ہمیشہ اس کشمکش میں مبتلا رہتا ہے اور نفس لوامہ کے اثر سے اس کو کبھی آزادی حاصل نہیں ہوتی۔ماں باپ کی تربیت اگر خشیت اللہ اس کے اندر پیدا کرتی ہے تو بد صحبت اس کے مقابلہ میں اس کی ہمت اور حوصلے کو پست کر دیتی ہے۔پس کامل تربیت اسی وقت ہو سکتی ہے کہ جب اچھی تربیت کے ساتھ صحبت بھی اچھی ہو۔لیکن جیسا کہ میں نے بتایا تھا۔بچوں کو کسی سے نہ ملنے دینا اور انہیں قید رکھنا بھی کوئی نیک نتیجہ پیدا نہیں کر سکتا۔کیونکہ اس طرح جہاں