خطبات محمود (جلد 9) — Page 146
جلدا 146 فیصلہ دیتے ہیں وہ غلطی کر رہے ہیں۔اس پر ان سب کو بد معاش اور منافق قرار دیتے ہیں۔ایسے لوگوں کے متعلق حضرت مسیح موعود کا فیصلہ موجود ہے۔ڈاکٹر عبدا حکیم نے حضرت مسیح موعود کو لکھا کہ سوائے مولوی نور دین کے کوئی جماعت میں دین دار آدمی نہیں ہے۔اس پر آپ نے اسے ایک جواب یہ دیا کہ بجائے اس کے کہ میں اپنی جماعت کے لاکھوں دین داروں کو بے دین قرار دوں بہتر ہے کہ میں تم کو جماعت سے خارج کر دوں۔چنانچہ آپ نے اسے جماعت سے خارج کر دیا۔کیونکہ اس سے نبی کی ذات پر بہت بڑا حملہ ہوتا ہے اور اس کی بعثت کی غرض ہی بالکل فضول ٹھہرتی ہے۔خدا تعالیٰ اسے اس لئے مبعوث کرتا ہے کہ اس کے ذریعے دیندار لوگ پیدا ہوں۔پھر اگر کوئی شخص نبی کی جماعت کو نیک نہیں سمجھتا تو اس کے دوسرے معنی یہ ہیں کہ وہ اسے راست باز یقین نہیں کرتا۔وہ خود منافق اور بے دین ہے جو ساری جماعت کو خراب کرنا چاہتا ہے۔کیونکہ اشاعت فاحشہ کا جو نتیجہ قرآن میں بیان کیا گیا ہے وہ یہ ہے کہ قوم سے بدی کا رعب جاتا رہتا ہے۔اگر صرف ایک آدمی ایک بدی کا مرتکب ہو توہ اپنی بدی کو چھپاتا یا اس سے بچنے کی کوشش کرتا ہے اور اس کو اس بات کا احساس ہوتا ہے کہ لوگ مجھے کیا کہیں گے۔لیکن جب وہ یہ سنے کہ اور بھی بہت لوگ اس غلطی میں مبتلا ہیں تو پھر وہ اس بدی کو حقیر سمجھنے لگتا ہے اور اس کا رعب اس کے دل سے اٹھ جاتا ہے۔وہ سمجھتا ہے صرف میں ہی نہیں اور بھی بہت سے لوگ میرے شریک ہیں۔بسا اوقات دیکھا گیا ہے۔جب ایک شخص کو کہا گیا کہ تم نے یہ فعل کیوں کیا ہے تو جواب میں اس نے کہہ دیا کہ فلاں نے بھی تو کیا ہے۔وجہ یہ کہ انسان کی فطرت میں یہ بات پائی جاتی ہے کہ جب وہ دوسروں کو کسی جرم میں مبتلا سمجھتا ہے تو اس جرم کو حقیر سمجھنے لگتا ہے۔جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ اور بھی بہت سے اس جرم کے کرنے والے پیدا ہو جاتے ہیں۔ایسے لوگ پہلے خود ٹھوکر کھاتے اور صداقت سے دور ہو جاتے ہیں۔پھر دوسروں کے لئے ٹھوکر کا موجب اور صداقت سے محرومی کا باعث ہو جاتے ہیں۔پس ایسے لوگ جو معامالات میں کثرت رائے کا احترام نہیں کرتے۔اول وہ ظالم بنتے ہیں۔کیونکہ دوسروں کا حق مارتے ہیں۔پھر قوم کے اخلاق کو اشاعت فاحشہ کے ساتھ تباہ اور برباد کرتے ہیں۔اور پھر مامور اور خدا کے مرسل پر ان کا ایمان متزلزل ہو جاتا ہے۔اور وہ مرتدین میں شامل ہو جاتے ہیں۔اگر ایسے معاملات میں انسان یہ سمجھ لے کہ میں لینے والا یا دینے والا ہوں۔میری عقل جو فیصلہ کرے گی۔اس میں حرص اور طمع کا دخل ہو سکتا ہے۔اس لئے اپنی حرص اور طمع کی وجہ سے