خطبات محمود (جلد 9)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 145 of 413

خطبات محمود (جلد 9) — Page 145

145 اس فیصلہ کو اگر دینے والا اس لئے رد کر دیتا ہے کہ یہ میری عقل اور میری سمجھ میں صحیح اور درست نہیں تو نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ایسے لوگ پھر ہمیشہ لوگوں کا حق مارتے رہتے ہیں۔جس نے دینا ہوتا ہے وہ کہتا ہے مجھے تھوڑا دینا ہے۔اور جس نے لینا ہوتا ہے وہ کہتا ہے مجھے زیادہ لینا ہے۔اور دونوں اپنی اپنی عقل پر اپنے دعوی کی صحت کی بنیاد رکھتے ہیں۔حالانکہ عقل نہ دینے والے کی سلامت ہوتی ہے۔نہ لینے والے کی۔الا ماشاء اللہ۔اور ننانویں فی صد ایسے ہی واقعات ہوتے ہیں کہ نہ واقعہ میں دینے والے نے اتنا دینا ہوتا ہے جتنا اس سے مطالبہ کیا جاتا ہے۔اور نہ واقعہ میں دوسرے نے اتنا زیادہ لینا ہوتا ہے جتنا وہ لینا چاہتا ہے۔دونوں کی عقل بوجہ حرص اور طمع ماری جاتی ہے۔ایسی حالت میں جو شخص فیصلہ نہیں مانتا اور اسے رد کرتا ہے اور معاملات میں اپنی عقل کے مقابلہ میں کثرت کی رائے کا احترام نہیں کرتا وہ ہمیشہ خائن ہوتا ہے۔میرا اپنا خیال ہے کہ ننانویں فی صد ایسے لوگ خائن ہوتے ہیں کیونکہ وہ چونکہ خود صاحب غرض ہوتے ہیں اور ان کی عقل ٹھکانے نہیں ہوتی۔اس لئے وہ خود صحیح فیصلہ دے نہیں سکتے۔اور جو بے لاگ اور بے غرض ہو کر فیصلہ دیتے ہیں انہیں وہ جھوٹا اور فریبی قرار دیتے ہیں۔ہمیشہ میں نے دیکھا ہے جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ ہماری بات ہی صحیح ہے اور دوسرے لوگ جو کہتے ہیں وہ غلطی کرتے ہیں ان میں سے سو میں سے ایک ایسا ہوتا ہو گا۔اور اس ایک کے بھی سو مقدموں میں سے کوئی ایک مقدمہ ایسا ہوتا ہو گا جس میں اس کی رائے اور اس کا فیصلہ صحیح ہو۔ورنہ ایسے لوگوں کی مثال اس اندھے کی سی ہوتی ہے جو آنکھوں والوں سے کہے میں کس طرح مان لوں سورج موجود ہے۔جب کہ مجھے نظر نہیں آتا۔کیا اس اندھے کو سورج نظر نہ آنے سے واقعہ میں سورج نہیں ہوتا۔تو جتنے لینے والے ہوتے ہیں یا دینے والے دونوں اندھے ہوتے ہیں۔اور اندھا سو جاکھے کو کس طرح جھٹلا سکتا ہے۔تو اس کا پہلا اور بد نتیجہ یہ پیدا ہوتا ہے کہ ایسا شخص ان لوگوں کو جو ان کا دین اور ایمان بچانے کے لئے اس کے سامنے صحیح فیصلہ پیش کرتے ہیں منافق قرار دیتا ہے۔وہ تو اس کوشش میں ہوتے ہیں کہ یہ کسی کا حق نہ مارے یا اپنے حق سے زیادہ نہ لے لے۔جس سے اس کا دین اور ایمان ضائع ہو جائے گا۔مگر یہ ان کی نسبت یہ کہتا ہے کہ یہ فریبی منافق اور دھوکہ باز ہیں۔پھر اس روش کا بد نتیجہ یہ پیدا ہوتا ہے کہ ایسا شخص ظالم ہو جاتا ہے۔اور ہمیشہ دوسروں کا حق مارتا ہے۔تیسرا بد نتیجہ ان کی اس روش کا یہ ہو گا کہ ایسے لوگ اشاعت فاحشہ کے موجب اور مرتکب ہوتے ہیں۔جس وقت کثرت ان کے خلاف فیصلہ دیتی ہے تو وہ سمجھتے ہیں کہ یہ ساٹھ یا ستر آدمی جو