خطبات محمود (جلد 9) — Page 144
144 ہیں۔کے متعلق کثرت کی کیا رائے ہے۔آنحضرت ﷺ نے فرمایا ہے۔جو شخص جماعت سے الگ ہوتا ہے اس کا ٹھکانا جہنم ہے۔یزید کے معاملہ میں بہت سے صحابہ سے دریافت کیا گیا کہ کیا تم واقعی اسے حقدار خلافت سمجھتے ہو تو انہوں نے جواب دیا کہ نہیں۔لیکن چونکہ کثرت نے اسے قبول کر لیا ہے۔اس لئے ہم نے بھی مان لیا ہے۔تو شریعت کی تفصیل میں آکر کثرت کی عقل اور سمجھ کو مقدم رکھا گیا ہے۔ان اصولی امور میں دوسروں کی عقلیں معیار نہیں بلکہ اپنی عقل معیار رکھی گئی ہے۔تو ان معاملات میں جن کا تعلق دوسروں کے ساتھ ہوتا ہے۔صرف اپنی عقل کسی طرح معیار نہیں ہو سکتی۔بہت سے لوگ ایسے پائے جاتے ہیں۔بلکہ کثرت ایسے ہی لوگوں کی ہے۔جو معاملات میں دوسروں کے فیصلہ کو ماننے کے لئے تیار نہیں ہوتے۔اور ان کو غلطی خوردہ قرار دیتے حالانکہ فیصلہ کرنے والے ایسے ہوتے ہیں جن کا فریقین سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔بلکہ وہ غیر جانبدار ہوتے ہیں۔وہ یہ سمجھ کر کہ ہماری عقل اس فیصلہ کو نہیں مانتی اس کا انکار کر دیتے ہیں۔اس طرح وہ اپنی عقل پر بھروسہ کر کے اپنی آنکھیں بند کر لیتے ہیں۔اس لئے دوسروں کے حقوق ان کو نظر نہیں آتے۔ان کے کان بہرے ہو جاتے ہیں اس لئے وہ اپنے فائدہ کی بات کے سوا دوسری کوئی بات سن نہیں سکتے۔ان کی ناک کی جس ماری جاتی ہے اس لئے سچائی کی خوشبو ان کو نہیں آتی۔ان کی زبان کا ذائقہ جاتا رہتا ہے۔ان کی قوت لامسہ ماری جاتی ہے۔وہ گردو پیش کے حالات کو محسوس نہیں کر سکتے۔اگر ایسا نہ ہو۔بلکہ ہر شخص جس کے خلاف کوئی فیصلہ ہو اس بات کو مد نظر رکھے کہ کثرت نے اس کے خلاف فیصلہ دیا ہے۔اور اس کی واحد عقل سے ان کی زیادہ عقلیں صحت اور راستی کے زیادہ قریب ہو سکتی ہیں۔تو سو میں سے نانویں فیصلے ایسے ہوں کہ جن میں کسی کی حق تلفی نہ ہو اور حقدار کو اس کا حق مل جائے۔اگر کثرت کی رائے کو قبول نہ کیا جائے اور اپنی عقل کے مقابلہ میں اسے رد کر دیا جائے تو پھر دیکھو انتظام اور تمدن میں کس قدر تباہی واقعہ ہو سکتی ہے۔مثلاً ایک شخص نے دوسرے کا کچھ روپیہ دیتا ہے۔دینے والا سمجھتا ہے کہ مجھے اتنا روپیہ دیتا ہے لینے والا سمجھتا ہے کہ مجھے اس سے زیادہ لیتا ہے۔اب ضروری نہیں کہ دینے والے نے اتنا ہی دینا ہو جتنا وہ کہتا ہے۔یا لینے والے نے اس سے زیادہ ہی لینا ہو جتنا دینے والا مانتا تھا۔کیونکہ حرص اور طمع کی وجہ سے اگر ایک گھٹاتا ہے تو دوسرا بڑھا بھی سکتا ہے۔لیکن دوسرے لوگ جو ان دونوں کے بیانات کو سنتے ہیں۔اور پھر تحقیق کرتے ہیں۔وہ بطور قاضی کے یا بطور دوستانہ اپنی رائے کا اظہار کرتے ہیں کہ اتنا روپیہ بنتا ہے۔