خطبات محمود (جلد 9)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 7 of 413

خطبات محمود (جلد 9) — Page 7

7 سکیں۔اگر وہ یقین اور ایمان جو ایک بچے مذہب کے اختیار کرنے سے حاصل ہوتا ہے وہ ہمیں اس سے حاصل نہیں ہوتا اگر وہ قرب اور معرفت جو ایک بچے مذہب کے اختیار کرنے سے انسان کو حاصل ہوتی ہے۔اگر ہمیں وہ قرب اور معرفت حاصل نہیں ہوتی۔اگر وہ خوشی اور بشاشت جو ایک بچے مذہب کے ذریعہ خدا تعالیٰ کے پیاروں کو اس کے قریب ہونے کی وجہ سے حاصل ہوتی ہے ہم کو بھی وہ خوشی اور بشاشت حاصل نہیں ہوتی۔اگر خدا تعالیٰ کا وہ فضل جو کچے مذہب کے ذریعے انسان پر ہوتا ہے اگر ہم پر اس کا وہ فضل نہیں اور اس کے دیدار سے ہم محروم ہیں تو پھر ہمارے اسلام کے قبول کر لینے سے ہمیں کیا فائدہ جب کہ سچائی کے قبول کرنے کے بعد بھی جو انعامات انسان کو ملا کرتے ہیں ان سے ہم محروم کے محروم ہیں۔اگر اس کے فضلوں کے ہم اس طرح وارث نہیں ہوتے جس طرح کہ ہم سے پہلے وارث ہوئے۔اگر اس کی رحمتیں اور برکتیں اسی طرح ہم پر نازل نہیں ہوتیں جس طرح کہ اس کے پہلے برگزیدوں پر نازل ہوئیں۔اگر خدا کی غیرت اسی طرح ہمارے لئے جوش میں نہیں آتی جس طرح کہ وہ ہمیشہ اپنے پیاروں کے لئے غیرت دکھاتا آیا ہے۔تو پھر یقینا یقیناً ہمیں کوئی بھی خوشی نہیں ہو سکتی۔اسلام اور احمدیت میں داخل ہو کر بھی اگر ہم نے خدا تعالیٰ کی محبت نہ پائی اور اس کے وصل کے شیریں ثمرات ہم نے نہ کاٹے تو ہم نے اپنی زندگی کو دکھ اور مصیبت میں ڈال لیا۔میں نے آپ لوگوں کو بارہا توجہ دلائی ہے کہ تم اپنی حالت پر غور کرو کہیں بھی دنیا۔پر تمہارا کوئی دوست نہیں۔عیسائی ہیں تو وہ تمہارے دشمن ، ہندو ہیں تو وہ سکھ ہیں تو وہ۔غرض جس طرف دیکھو سب دشمن ہی دشمن نظر آئیں گے۔وہ مسلمان جو اپنے آپ کو محمد رسول اللہ کی طرف منسوب کرتے اور آپ کی محبت کا دم بھرتے ہیں۔وہ بھی تمہارے دشمن اور خون الله الي الليل کے پیاسے ہیں۔کوئی جماعت دنیا کی اور کوئی قوم تمہاری دوست نہیں۔یہ سب ہمارے دشمن کیوں ہیں۔محض اس لئے کہ ہم نے ایک سچائی کو قبول کیا اور خدا تعالیٰ کی خالص توحید پر ہم ایمان لائے اور محض اللہ کی رضا کے لئے اس کی باتوں کو ہم نے مانا۔اور جو سچائی اس نے ہماری طرف بھیجی اس کو ہم نے اختیار کر لیا۔اگر ہم اپنی غفلتوں اور ستیوں سے خدا کو بھی اپنا دشمن بنا لیں تو پھر ہمارا کوئی ٹھکانا نہیں۔مگر افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ وہ اللہ کی رضاء جس کے لئے ہمارے اپنے اور بیگانے ہمارے دشمن ہو گئے۔جیسا کہ چاہیے ہمیں حاصل نہیں ہوئی۔بہت سی کمی ابھی باقی ہے۔اس میں کوئی شک نہیں کہ کوئی ترقی یکلخت حاصل نہیں ہو جاتی بلکہ بتدریج ہوتی ہے۔اسی طرح دین میں بھی انسان یکبارگی کامل نہیں بن جاتا۔مگر اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ جو ایک قدم بھی نہیں چلتا وہ ایک