خطبات محمود (جلد 9)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 114 of 413

خطبات محمود (جلد 9) — Page 114

114 16 جماعت احمدیہ نہایت بیش قیمت موتی ہے (فرموده یکم مئی ۱۹۲۵ء) تشہد، تعوذ اور سورہ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا : دو مہینے کے قریب عرصہ ہوا ہے کہ میں نے سلسلہ کی بعض ضروریات کو مد نظر رکھتے ہوئے ایک خاص چندے کی تحریک دوستوں کو کی تھی۔اس تحریک کے جواب میں جس اخلاص جس ایثار اور جس قربانی کا ثبوت جماعت نے دیا ہے وہ ایسا امید افزا اور ایسا دل خوش کن ہے کہ اس کو دیکھتے ہوئے اس بات سے انکار کرنے کی قطعاً گنجائش نہیں رہتی کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنی قوت قدسیہ سے اپنی جماعت کے اندر وہ روح پیدا کر دی ہے جس کا نمونہ سوائے رسول کریم ا اور دوسرے انبیاء کی جماعتوں کے اور کہیں نہیں ملتا۔ایک ترقی کرنے والی اور عروج کے اعلیٰ مقامات تک پہنچنے والی جماعت کے لئے سب سے اول یہ بات نہایت ضروری ہے کہ اس میں کسی بات کی قبولیت اور قابلیت کا مادہ ہو۔اور کسی بات کے اثر کو قبول کرنے کی طاقت اور ترقی کرنے کی قابلیت ہو۔ورنہ کوئی بات موثر نہیں ہو سکتی۔جیسا کہ محاورہ ہے ایک بھینس کے سامنے خواہ کتنی دیر بین بجائیں یا گدھے کے سامنے فلسفہ اور منطق کے کتنے نکتے بیان کریں اس کا کچھ نتیجہ نہ ہو گا۔کیونکہ بھینس اور گدھے میں موسیقی اور فلسفہ کے سمجھنے کی قوت اور مادہ نہیں ہوتا۔اور ہماری مغز خوری کوئی نتیجہ نہیں پیدا کر سکتی۔ہماری وہ محنت جو ہم ان کو علوم کے سکھانے کے لئے کریں گے قطعا کار آمد نہیں ہو گی۔لیکن ایک انسان کو جب کوئی سبق یا کوئی علم سکھاتے ہیں تو وہ بسا اوقات سیکھ لیتا ہے۔کیونکہ انسان میں قبولیت کا بہت زیادہ مادہ ہوتا ہے اور وہ ہر ایک بات اور ہر ایک علم کو سمجھنے اور سیکھنے کی طاقت رکھتا ہے۔ہاں جو قوم محکوم اور مفتوح ہو اس میں فاتح اور حاکم کی نسبت یہ مادہ کم ہو تا ہے۔لیکن ہوتا ضرور ہے۔