خطبات محمود (جلد 9) — Page 6
نہ کیا۔پس جن لوگوں کے پاس سچاند ہب اور سچا دین نہیں وہ اگر خدا کی مرضی کے خلاف چل کر دکھ اٹھاتے ہیں تو بعینہ اسی طرح وہ لوگ بھی دکھ اور تکلیف اٹھاتے ہیں جن کے پاس سچا مذہب اور سچا دین تو ہے لیکن وہ اس پر عمل کر کے اس کے فوائد حاصل نہیں کرتے۔بلکہ وہ بہت زیادہ قابل ملامت اور قابل افسوس ہیں کہ وہ بچے دین اور بچے مذہب پر ایمان بھی لاتے ہیں مگر عمل نہیں کرتے۔تکلیف کے لحاظ سے یہ دونوں قسم کے لوگ جن کے پاس سچاند ہب ہے یا جن کے پاس نہیں دونوں برابر ہیں۔مگر ملامت کے لحاظ سے وہ شخص جس کے پاس سچا مذ ہب تو ہے مگر وہ اس کے مطابق عمل نہیں کرتا بہت زیادہ ہو گا۔کیونکہ ایک صداقت اور سچائی کے ہوتے ہوئے اس نے اپنے آپ کو اس کے فوائد سے محروم رکھا۔میں بہت ہی حیران ہوتا ہوں اور مجھے تعجب آتا ہے کہ مسلمان اس بات پر بحث کرتے ہیں کہ جو کافر ہیں وہ سب جہنم میں جائیں گے اور مسلمان سب جنت میں جائیں گے۔میں کہتا ہوں کہ کافر کیوں جنم میں جائیں گے۔کیا اس لئے نہیں کہ وہ خدا سے دور ہیں۔پھر سوال ہوتا ہے کہ ایک کافر خدا سے دوری کے باعث جہنم میں جائے گا تو ایک مسلمان خدا سے دور رہ کر کیوں جہنم میں نہیں ڈالا جائے گا۔خدا سے دوری کے لحاظ سے دونوں برابر ہیں۔اگر فرق ہے تو صرف اتنا ہے کہ ایک کافر تو اسلام کو مانتا ہی نہیں اور ایک مسلمان مانتا ہے کہ یہ خدا تعالیٰ کی طرف سے سچا دین ہے۔یا کم از کم اس کے سچا دین ہونے کا مقر ہے۔مگر محض تسلیم کر لینا کہ فلاں چیز واقعہ میں مفید اور نفع بخش ہے انسان کے لئے مفید اور نفع بخش نہیں ہو سکتی۔جب تک کہ اس کو استعمال کر کے اس سے فائدہ اور نفع نہ حاصل کیا جائے۔اگر وہ لوگ جو یہ جانتے ہی نہیں کہ کونین بخار میں فائدہ دیتی ہے اور اگر وہ لوگ جو یہ مانتے ہی نہیں کہ فاسفورس دماغ کو طاقت پہنچاتی ہے وہ ان کے فوائد سے محروم رہ کر دکھ اٹھا سکتے ہیں۔تو کیا وجہ ہے کہ جن کے پاس کونین اور فاسفورس موجود ہے اور وہ ان کے فوائد سے واقف ہیں وہ جانتے ہیں کہ کو نین واقعہ میں بخار کو رفع کرتی ہے اور فاسفورس کو وہ استعمال کریں تو ان کو واقعہ میں نفع ہو گا۔مگر وہ ان کو استعمال نہ کرنے کی وجہ سے دکھ اور تکلیف نہ اٹھائیں۔وہ ضرور دکھ اٹھائیں گے۔خواہ وہ زبان سے ان کے فوائد کے قائل ہی کیوں نہ ہوں۔اسی طرح دین سے بھی وہی شخص نفع حاصل کر سکتا ہے جو دین پر چلتا بھی ہے۔یقیناً ہمارا دل کبھی بھی اس ورثے کے ایمان پر خوش نہیں ہو سکتا جب تک کہ اس کے فوائد بھی ہم حاصل نہ کر