خطبات محمود (جلد 9)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 98 of 413

خطبات محمود (جلد 9) — Page 98

98 کو پہنچ گئے ہوں اور وہ بچے پیدا کرنے کے قابل ہو گئے ہوں۔اس سے میرا مطلب یہ نہیں کہ باوجود جسمانی قومی کی تکمیل کے بھی جسے وہ پندرہ سال کی عمر سے پہلے حاصل کر لیں۔ان سے روزے نہ رکھوائے جائیں۔بلکہ جیسا کہ بچہ پیدا کرنے والے کی بلوغت کا زمانہ مختلف ہو سکتا ہے اسی طرح ہو سکتا ہے کہ بچہ تیرہ چودہ برس کی عمر میں جسمانی قوتیں پوری حاصل کر لے۔مگر چونکہ ایسی مثالیں بہت شاذ ہیں۔کہ جو پندرہ برس کی عمر سے پہلے جسمانی طاقت و قوت کے تمام مرحلے طے کر لیں۔اس لئے قانونی طور پر روزے کے لئے بلوغت کا زمانہ اٹھارہ برس ہے۔پھر اس میں استثنائی صورتیں بھی ہیں جن میں بعض اٹھارہ برس سے کم عمر والے بھی آجاتے ہیں۔اور بعض اٹھارہ برس سے اوپر کمر والے بھی آجاتے ہیں۔حتی کہ بعض اکیس سال تک کی عمر والے بھی اس میں شامل ہو جاتے ہیں جن پر اکیس سال کی عمر میں روزہ فرض ہوتا ہے۔لیکن میں نے ان دونوں حدوں کو چھوڑ کر ایک درمیان کی حالت کو لے لیا ہے۔جو اٹھارہ سال ہے۔ورنہ کئی ایسے ہوں گے جن کے لئے چودہ پندرہ سال کی عمر میں اپنے جسمانی قوی کی تکمیل کی وجہ سے روزہ ضروری ہو جائے گا۔اور کئی ایسے ہوں گے کہ جو اپنے قومی کی کمزوری کی وجہ سے اکیس سال تک بھی اس حکم کے مصداق نہ ہوں گے۔پس میں نے ایک درمیانی عمر بتائی ہے کہ اس کی بلوغت کا زمانہ پندرہ سال کی عمر سے شروع ہو جاتا ہے۔اس لئے اس عمر سے عام طور پر روزے کی عادت ڈلوانی چاہیے۔یعنی چار پانچ روزے رکھوائے۔پھر چھوڑ دیئے۔اس سے بچے کو روزوں سے مس پیدا ہو جائے گی۔اور جب اس کا نشو و نما قوی ہو جائے گا۔تو پھر وہ پورے روزے رکھنے لگ جائے گا اور اس کو کوئی تکلیف بھی نہیں ہوگی۔غرض روزوں کے حکم کے عائد ہونے کے لئے بچے جنوانے کی کوئی شرط نہیں۔بعض ایسے آدمی ہوں گے کہ ساری عمر بھی ان پر روزہ فرض نہیں ہو گا۔اور اگر ایک روزہ بھی رکھ لیں تو ان کی صحت بالکل برباد ہو جائے گی۔کیونکہ روزہ ایسی چیز نہیں جس کے لئے جسم کی توانائی کی کچھ ضرورت نہ ہو۔اور اس کا جسم پر کچھ اثر نہ پڑے۔پس ہر ایک چیز کے لئے ایک مناسبت ہوتی ہے۔اس لئے روزے کا حکم جسمانی قوی کی تکمیل پر عائد ہوتا ہے۔اگر کسی کے قومی جسمانی تکمیل کو نہیں پہنچے تو خواہ وہ چالیس پچاس بچے بھی پیدا کرا لے مگر روزوں کا فرض اس پر عائد نہیں ہو گا۔دیکھو جنابت کے غسل کے متعلق حکم ہے کہ بیمار غسل نہ کرے۔تم تو شائد کہہ دو گے کہ وہ بیمار کیسا ہے جس پر جنابت کے غسل کی نوبت آئی۔حالانکہ ہر ایک عظمند سمجھ سکتا ہے کہ بعض آدمی ایسے ہوں گے کہ