خطبات محمود (جلد 9) — Page 95
95 روزوں کی ہتک کے خیال سے قربان کر دیا۔مگر میں کہوں گا انہوں نے ناحق خون کیا۔وہ اپنے اس فعل سے ایسے ہی مجرم ہیں جیسا کہ ایک قاتل خدا تعالیٰ کے حضور مجرم ہے۔مجھ سے رقعہ میں یہ سوال کیا گیا ہے کہ بلوغت سے کیا مراد ہے۔میرا جواب یہ ہے۔کہ میں نہیں سمجھ سکتا۔بلوغت کے معنی کس عقل سے کس ہوش سے کس فقہ اور کس حدیث سے ایک ہی کئے جاسکتے ہیں۔جب کہ بلوغت کے کئی معنی ہیں۔اور عجیب بات یہ ہے کہ خود فقہاء نے بلوغت کے کئی معنی کئے ہیں۔بے شک وہ بھی ایک بلوغت ہے جب بچہ کو عورت کے ساتھ ملنے اور بچہ پیدا کرانے کی قوت اور طاقت آجاتی ہے۔لیکن اس کے لئے بھی کوئی عمر کی حد مقرر نہیں کی جا سکتی۔یہ کہیں بارہ سال کی عمر میں اور کہیں تیرہ چودہ سال کی عمر میں اور کہیں پندرہ سولہ اور سترہ سال کی عمر میں جا کر بچے کو حاصل ہوتی ہے۔جب اس بلوغت کا یہ حال ہے۔تو پھر بلوغت کے کیا معنی کرو گے۔اور کون سے وقت سے اس بلوغت کا زمانہ شروع ہو گا۔ہندوستان اور دیگر گرم ممالک میں بعض بارہ سال کے بچے کو بلکہ اس سے بھی کم عمر میں اس قسم کی بلوغت حاصل ہو جاتی ہے۔اور اگر سرد علاقوں میں چلے جاؤ تو وہاں یہ نظر آتا ہے کہ اٹھارہ سال سے پہلے بچے میں اس قسم کی بلوغت کی قابلیت پیدا نہیں ہوتی۔ایسی حالت میں بلوغت کے کونسے خاص معنی اور اس کے زمانہ کی کونسی خاص تخصیص کی جا سکتی ہے۔یہ تو بچے کی اس بلوغت کے زمانہ کا حال کہ جس میں وہ عورت کے ساتھ ملنے کی قوت اور قابلیت حاصل کرتا ہے۔اب نماز کی بلوغت کا زمانہ لو یہ سات سال سے شروع ہوتا ہے۔اور دس سال کے بچے کو سختی کے ساتھ نماز کی پابندی کرانے کا رسول کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے۔اور بارہ سال کے بچے سے تو تہجد کے متعلق فرمایا ہے کہ کیوں نہیں پڑھتا۔پس نماز کے لئے بلوغت کا زمانہ دس سال ہے۔اگر اس حد بلوغت کو مرد و عورت کے تعلقات کے لئے سمجھا جائے تو کیا کوئی ایسا بچہ دنیا میں ہے جو دس سال کی عمر میں ایسی قابلیت حاصل کرے کہ بچہ پیدا کرا سکے۔ایسی کوئی مثال نہیں مل سکتی۔مگر باوجود اس کے کہ اس عمر کے بچہ کو ایسی قابلیت حاصل نہیں ہوتی۔نماز اس کے لئے ضروری قرار دی گئی ہے۔پس تمام شرعی احکام ایک بارہ سال کے بچے پر واجب قرار نہیں دیئے گئے بلکہ ہر ایک حکم کی نوعیت الگ الگ ہے۔اور اس نسبت سے بلوغت کا زمانہ مختلف ہے۔اسی طرح اب جہاد کی بلوغت کے زمانہ کو لو۔ہمارے ملک میں ساٹھ فیصد بچے ایسے ہوتے ہیں کہ تیرہ چودہ سال کی عمر میں عورت سے ملنے اور بچہ پیدا کرانے کی قابلیت ان میں پیدا ہو جاتی