خطبات محمود (جلد 8) — Page 86
86 سکتی ہے اور کس طرح کوئی قوم یا جماعت زندہ رہ سکتی ہے۔چونکہ آج کل فتنہ ہے اور اس کا زیادہ تر بار ہماری جماعت پر ہے میں اس گر کو بیان کرتا ہوں۔جن کو توفیق ہو اس کو مضبوطی سے پکڑلیں اور چھوڑیں نہیں۔یہ گر دین کے امور ہی سے تعلق نہیں رکھتا بلکہ یہ گر ہر ایک کام سے تعلق رکھتا ہے۔دنیاوی زندگی نہیں مل سکتی اور کوئی قوم زندگی نہیں رہ سکتی اور نہ منزل سے محفوظ رہ سکتی ہے جب تک وہ کسی بات کو دنیا میں بڑا یا چھوٹا نہ سمجھے۔یہ گر ہے جس کے ذریعہ اللہ تعالی کہتا ہے کہ تم دنیا کے حاکم ہو گے اور دنیا تمہارے آگے جھکے گی۔تم اونچے ہو گے لوگ تمہیں نظر اٹھا کر دیکھیں گے۔اگر تم اس کو مد نظر رکھو کہ دنیا میں کوئی چیز بڑی نہیں اور کوئی چھوٹی نہیں۔کوئی کام اور مہم اور مرحلہ ایسا نہ ہو جس کو تم بڑا سمجھو اور کوئی ایسا نہ ہو جس کو چھوٹا سمجھو۔جب تمہاری نظروں میں یہ گر آجائے اور اصول جم جائے تو دنیا تمہاری غلام ہوگی۔تم دنیا کے لئے بطور داروغہ کے ہو گے اور لوگ تمہاری نگرانی میں اور موجودگی میں کام کریں گے جیسے غلام کرتا ہے۔بعض کے نزدیک یہ مسئلہ پیچیدہ ہوگا۔بعض کے نزدیک یہ بات اضداد میں سے ہوگی۔لیکن اصل یہ ہے کہ یہ ایک حقیقت ہے جس کے بغیر کوئی ترقی نہیں۔یورپ کے لوگوں میں یہ بات ہے۔ابھی میری آنکھوں کے سامنے وہ نظارہ آگیا ہے جو پچھلے دنوں میں پیش آیا کہ زندہ رہنے والی قوموں میں کسی بات کو چھوٹی نہیں سمجھا کرتیں۔سرحد پر انگریزی فوجیں رہتی ہیں۔ان کے ساتھ انگریز افسر بھی ہوتے ہیں۔انگریزی فوج کا انتظام اس قسم کا ہے کہ بغیر انگریزوں کے چل نہیں سکتا۔ایسے مقامات جن کو محفوظ خیال کیا جاتا ہے۔انگریز افسر اپنے بیوی بچوں کو بھی ساتھ لے جاتے ہیں۔پچھلے دو ہفتہ کا ایک واقعہ ہے کہ کو ہاٹ میں ایک انگریز افسر میجر ایس رہتے تھے۔وہ کسی دورے پر گئے ہوئے تھے۔کوہاٹ ایک ایسا مقام ہے کہ وہاں سے سرحد پانچ میل کے فاصلہ پر ہے۔وہ مقام خطرے سے بکلی پاک نہیں۔ایک پٹھان گروہ جن کو کوئی نقصان پہنچا تھا ان کے سردار نے اپنی ماں کے سامنے قرآن پر ہاتھ رکھ کر اقرار کیا تھا کہ میں جب تک کوئی خاص کام نہ کر لوں دم نہ لوں گا۔اس پٹھان گروہ کے لوگ باوجود پہروں کے ہوشیاری سے کوہاٹ میں داخل ہو گئے اور پھر میجر ایس کے گھر میں پہنچ گئے۔ان کی بیوی کو قتل کر دیا اور ان کی لڑکی کو اپنے ساتھ لے گئے۔اگر یہ واقعہ ہمارے ملک میں ہوتا تو لوگ شور مچا دیتے کہ حکومت ناقص ہے۔پھر سوال پیدا ہو تا کہ اس لڑکی کو بچایا جائے تو یہی زور دیا جاتا کہ جس کی لڑکی ہے وہ اپنا روپیہ خرچ کرے دوسرے اس کے لئے کیوں مصیبت اٹھائیں۔مگر انگریز قوم زندہ رہنے والی ہے۔ان میں اس بات کا احساس ہے کہ یہ واقعہ چھوٹا نہیں اور نہ شخصی ہے۔انہوں نے