خطبات محمود (جلد 8) — Page 83
83 زندہ نہیں رہتی۔چاولوں اور ترکاریوں سے حیوانیت کا بقاء ہے۔انسانیت کا بقاء خدا کے ذکر میں ہے۔حضرت عیسیٰ کا قول ہے کہ انسان روٹی سے نہیں خدا کے کلام سے زندہ رہتا ہے۔۳۔اس که اگر انسان گوشت کھاتا ہے تو اس کی حیوانیت زندہ رہتی ہے۔اگر وہ ذکر اللہ کا مطلب یہ ہے نہیں کرتا تو وہ حیوان ہو گا۔انسان نہ ہوگا۔اسی کی طرف اس آیت میں اشارہ کیا گیا ہے۔الذین امنوا وتطمئن قلوبهم بذكر الله الا بذكر الله تطمئن القلوب وہ لوگ جو ایمان لاتے ہیں۔اللہ تعالیٰ کے ذکر سے ان کو اطمینان ہوتا ہے۔ان میں زندگی انسانی ہوتی ہے اور انکی انسانیت یا روحانیت کے بقاء کے لئے ذکر اللہ کی روٹی ہوتی ہے۔انسانیت اسی کی زندہ ہے جو اللہ کا ذکر کرتا ہے۔ذکر اللہ سے کیا ہوتا ہے؟ فرمایا خبردار ہو کر سن لو۔قلوب کا اطمینان ذکر اللہ سے ہوتا ہے۔جو مومن ہیں اور جن کے قلوب اللہ کے ذکر سے زندہ ہیں۔ان کے لئے فرمایا۔طوئی لهم کوئی عظمند بھلا مردے کے لئے کچھ کرتا ہے۔سب زندوں کے لئے ہی کیا کرتے ہیں۔پس چونکہ وہ زندہ ہیں۔ان کے لئے بشارت ہو۔وہ زندہ ہیں اور زندہ کئے گئے ہیں۔وحسن ساب ان کے لئے اعلیٰ مقام ہے جس کی طرف جائیں گے۔جو روحانی مُردے ہیں ان کو دفن کر دیا جاتا ہے۔اور جو روحانی زندہ ہیں ان کو اعلیٰ علیین میں جگہ دیتا ہے۔یہ آیت رمضان سے خاص تعلق رکھتی ہے ہم خدا کے لئے کھانا چھوڑتے ہیں۔اس سے ہمارا جسم مضمحل ہو جاتا ہے۔کوئی ہے جو کے کہ روزہ رکھنے سے انسانیت مرجاتی ہے۔نہیں بلکہ انسانیت زندہ ہو جاتی ہے۔ہاں جسم کمزور ہو جاتا ہے۔جب ہم کھانا چھوڑتے ہیں۔جسم کمزور ہوتا ہے۔لیکن ہماری روحانیت میں کمی نہیں آتی بلکہ ترقی ہوتی ہے۔جب افطار کرتے ہیں تو اس سے ہمیں سبق ملتا ہے کہ بھوک اور پیاس کے بموجب پانی پیتے ہیں تو ناخنوں تک تری پھیل جاتی ہے۔اس سے ثابت ہوتا ہے کہ جو چیز جس چیز سے تعلق رکھتی ہے اس کے ملنے سے اس کو نفع پہنچتا ہے۔پس جسم میں تراوت آتی ہے جب غذا حیوانی ملتی ہے۔اور روحانیت میں ترقی ہوتی ہے جب ذکر اللہ کیا جاتا ہے۔اگر جسم کو غذا نہ دیں تو جسم مرجائے گا۔اگر انسانیت کی زندگی درکار ہے تو ذکر اللہ کی غذا دینی چاہئیے۔پس رمضان کی افطاری سے سبق ملتا ہے۔مبارک ہیں وہ جو اس سے سبق لیتے ہیں۔مبارک نہیں وہ جن کو اس سبق لینے کی توفیق ملتی ہے اور وہ اس سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔خدا تعالیٰ ہمیں ان حکمتوں کے سمجھنے اور ان پر عمل کرنے کی توفیق دے آمین۔جب دوسرے خطبے کے لئے کھڑے ہوئے تو فرمایا) میں نے پچھلے جمعہ کہا تھا کہ آجکل ہماری جماعت کو ایک جہاد در پیش ہے۔چاروں طرف سے اسلام پر حملے ہو رہے ہیں۔روحانیت کی تازگی کا ثبوت قبولیت دعا ہے۔اس لئے اس جہاد کے لئے دعا کرنی چاہئیے ان کے لئے جو کام پر گئے ہوے