خطبات محمود (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 8 of 558

خطبات محمود (جلد 8) — Page 8

نہیں تو کسی اور مخلوق میں بھی نہیں ہو سکتیں۔پس اس حصہ میں خدا تعالیٰ کی ذات کے اکمل اور بے مثل ہونے اور باقی چیزوں میں جو خوبیاں پائی جاتی ہیں ان کے خلقی ہونے کا ذکر ہے۔اس کے آگے یہ بتایا ہے کہ دنیا میں دو قسم کے نقائص اور کمزوریاں ہوتی ہیں۔ایک وہ جو دُور نہیں ہو سکتیں اور دوسری وہ جو دُور ہو سکتی ہیں۔مثلاً انسان کی بعض کمزوریاں ایسی ہیں جو کبھی دُور نہیں ہو سکتیں جیسا کہ انسان کے وجود کو ایک خاص حد تک بڑھنے کی اجازت ہے یعنی پانچ چھ فٹ تک لمبا اور ایک حد تک چوڑا ہو۔اب اگر کوئی چاہے وہ اتنا موٹا ہو جائے کہ چار پانچ گھماؤں میں بیٹھ سکے۔یا اتنا لمبا ہو جائے کہ ہمالیہ کی چوٹی کے برابر ہو جائے تو یہ نہیں ہو سکے گا کیونکہ اس کی حد مقرر ہے۔اسی طرح اگر کوئی چاہے (جیسا کہ کئی لوگوں کو کھانے کا اس قدر شوق ہوتا ہے وہ چاہتے ہیں کہ ہر وقت کھاتے رہیں) کہ میں ہر وقت کھاتا جاؤں اور میرا پیٹ نہ بھرے اور وہ سو ہزار یا لاکھ من کھا جائے تو یہ نہیں ہو سکتا ہے کیونکہ اس کی حد بندی ہے اسی طرح بعض اور کمزوریاں ہیں۔مثلاً یہ ہے کہ بعض اعضاء اگر کٹ جائیں تو پھر نہیں لگ سکتے۔یا کسی کا ناک کان کٹ جائے تو یہ نہیں ہو گا کہ اور اگنے لگ جائے۔یہ تو اس قسم کی کمزوریاں ہوئیں جو دُور نہیں ہو سکتیں اور بعض نقائص ایسے ہیں جو دور ہو سکتے ہیں مثلاً اگر کوئی بیماری سے کمزور ہو جائے تو دوائی کھا کر طاقتور ہو جاتا ہے۔ایاک نعبد و ایاک نستعین میں بتا دیا کہ انسان کو دیکھنا چاہئیے اس کے لئے کمزوریاں تو ہیں لیکن کیا اس کے لئے دائرہ ہے بھی یا نہیں۔ایک تک کٹے کے لئے دائرہ نہیں کہ اس کا ناک دوبارہ بن جائے۔مگر دیکھنا یہ ہے کہ انسان ترقی کر سکتا ہے یا نہیں ایاک نستعین میں بتایا کہ انسان کے لئے ترقی کا دائرہ ہے۔کیونکہ مدد کی تب ہی ضرورت ہوتی ہے جب کچھ حاصل کرتا ہے۔گویا یہاں تک یہ معلوم ہو گیا کہ ادھر تو انسان کے ساتھ نقائص اور کمزوریاں لگی ہوئی ہیں اور ادھر ترقی بھی کر سکتا ہے۔آگے بتا دیا کہ جس چیز میں ترقی ہو سکتی ہے۔اس میں تنزل بھی ہو سکتا ہے۔جب تغیر انسان کے ساتھ لگا ہوا ہے تو یہ گندا بھی ہو سکتا ہے اور اچھا بھی۔اس لئے بتا دیا کہ اهدنا الصراط المستقیم کے ذریعہ نیک تغیر کی درخواست کرتے رہو۔اور کہو کہ اے خدا ہماری ذات کامل نہیں کامل ذات تیری ہی ہے۔مگر تو نے ہماری ذات ایسی بنائی ہے جس میں تغیر ہو سکتا ہے۔یہ نیچے بھی جا سکتی ہے اور اوپر بھی۔مگر ہم یہ چاہتے ہیں کہ ہمارا تغیر اچھا ہو۔برا نہ ہو۔یہ خلاصہ ہے اس دعا کا۔اور اسی لئے اس پر اس قدر زور دیا گیا ہے۔چونکہ انسان کی ذات میں تفر ممکن ہے اور ہو سکتا ہے۔اس لئے یہ دعا سکھائی ہے اور بتایا ہے کہ چونکہ تمہارے لئے جب دونوں امکان ہیں۔نیک بھی اور بد بھی اس لئے تم ہر وقت ڈرتے رہو کہ بد نہ ہو :