خطبات محمود (جلد 8) — Page 9
بلکہ نیک ہو۔اور جب تک یہ خوف یہ طمع نہ لگی رہے کوئی شخص ایماندار نہیں ہو سکتا۔اس لئے اس طرف اس قدر زور کے ساتھ توجہ دلائی گئی ہے۔اور بتایا ہے کہ ایک کامل وجود ہے جس نے تمہارے لئے یہ رکھا ہے کہ تم جگہ سے ہٹ سکتے ہو۔یہ ہٹنا خواہ آگے کی طرف ہو خواہ پیچھے کی طرف مگر ہٹنا ضروری ہے اس لئے تم دعا کرو کہ تمہارا ہٹنا آگے چلنے کے لئے ہو۔پیچھے ہٹنے کے لئے نہ ہو۔نماز، روزه، نیکی، تقوی، اخلاق، تمدن ہر چیز میں یہ بات لگی ہوئی ہے انسان آگے ہوگا یا پیچھے اس کے لئے تباہی ہوگی یا کامیابی۔اس لئے مومن کو اس طرف خاص توجہ کرنی چاہئیے اور یہ نہ سمجھنا چاہیے کہ وہ اپنی جگہ پر کھڑا رہ سکے گا۔اسے یا آگے ہونا پڑے گا یا پیچھے۔جب کبھی کوئی تباہ ہوا ہے اسی سورۃ کے اس مضمون کو نہ سمجھنے کی وجہ سے ہوا ہے۔کیونکہ جب کوئی سمجھتا ہے کہ اب میں محفوظ ہو گیا ہوں۔اب میرے لئے کوئی خطرہ نہیں تو وہی اس کا پہلا قدم ہوتا ہے جہاں اسے شیطان پکڑتا اور تباہی کے نچلے غار میں لے جاتا ہے۔لیکن افسوس ہے کہ وہ لوگ جو پانچ وقت روزانہ کئی کئی بار اس سورۃ کو پڑھتے ہیں وہ جب روحانی نظارے دیکھتے ہیں تو اس کے اس مضمون کو بھول جاتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ ہم محفوظ ہو گئے ایسے لوگ بڑے بڑے درجے حاصل کرتے ہیں مگر بے ایمان ہو کر مرتے ہیں۔بڑی بڑی محنتیں کرتے ہیں مگر ان کا کچھ نتیجہ نہیں حاصل کر سکتے۔مجھے معلوم ہے ایک ایسا شخص ہے جو نماز کا تارک اور چندہ دینے میں سست ہے۔جب کوئی اسے کہتا ہے کہ نماز پڑھا کرو اور چندہ دیا کرو۔تو وہ کہتا ہے بہت نمازیں پڑھ لیں اور بہت چندے دے دے۔یہ شخص اگر یہ قادیان سے باہر کا ہے لیکن اس قسم کے بعض لوگ یہاں بھی پائے جاتے ہیں۔ایک وقت تکہ، انہوں نے خدمتیں کیس پھر انہوں نے سمجھ لیا کہ اب ہمیں کچھ کرنے کی ضرورت نہیں ہم نے ؟ کچھ حاصل کرنا تھا کر لیا۔یہ لوگوں کے لئے فتنہ اور اپنے لئے بے ایمانی کا سامان مہیا کرتے ہیں۔ایسے لوگ ذرا غور تو کریں کہ کیوں خدا تعالیٰ نے اس سورۃ کو رکھا۔کیوں اس پر اتنا زور دیا۔کیوں ہر رکعت میں یہ نہیں بدلتی۔کیوں دن رات میں اس کثرت سے پڑھی جاتی ہے۔اس لئے کہ انسان ایک حالت پر نہیں رہ سکتا۔اوپر ہوگا یا نیچے اور اس بارے میں اطمینان اسی وقت حاصل ہو سکتا ہے جب موت آجائے۔اس وقت انسان پاس ہو جاتا ہے اور پاس کو کوئی فیل نہیں کیا کرتا۔پس یہ مت سمجھو کہ کل تک تم نے جو خدمتیں کی ہیں۔ان کی وجہ سے ایماندار ہو گئے ہو اور آج تمہیں اختیار ہے کہ دینی خدمات کو چھوڑ دو۔اگر ایسا کرو گے تو تمہارا قدم وہاں نہیں ٹھرے گا جہاں پہلی خدمات کی وجہ سے پہنچا ہے بلکہ نیچے آنا شروع ہو جائے گا۔کیونکہ خدا تعالی کے سوا کوئی چیز ایک جگہ قائم نہیں رہ سکتی۔اگر تم سمجھتے ہو کہ تمہیں آگے بڑھنے کی