خطبات محمود (جلد 8) — Page 426
426 اسے اسی طرح ڈھیل دی جاتی اور اس سے در گزر کیا جاتا ہے جس طرح کسی آقا نے چند ہی دن سے کوئی نوکر رکھا ہو اور وہ گھر کی اشیاء کے متعلق پورا پورا علم نہ رکھتا ہو۔ایسا نوکر اگر کوئی کام آقا کی منشاء کے خلاف کر دے تو آقا کو اس پر کم غصہ آئے گا اس ملازم کی نسبت جو سالہا سال سے گھر میں رہتا ہو۔سب باتوں کے متعلق کافی علم رکھتا ہو۔کیونکہ اس نے سالہا سال آقا کی خدمت میں گزارے لیکن اس کی مرضی سے ناواقف رہا۔لیکن نئے ملازم پر اس لئے خفا نہیں ہو گا۔کہ وہ ابھی ابھی آقا کے گھر آیا اور اسے ابھی پوری واقفیت حاصل کرنے کا موقع نہیں ملا۔تو ایک ہی معاملہ میں دونوں سے الگ الگ سلوک کیا جائے گا۔اسی طرح مومن اور کافر کی حالت ہے۔کافر اگر خدا تعالٰی سے دعا نہ کرے تو وہ قابل گرفت نہیں اور اس کے نہ دعا کرنے میں کوئی حرج نہیں۔کیونکہ اس کو تو گناہ کرنے اور گناہوں میں بڑھنے کے لئے ڈھیل دی گئی ہے۔اگر وہ اس ڈھیل کے زمانہ میں خدا کو یاد نہ کرے۔اور نہ اس سے دعا مانگے تو اس پر الزام نہیں۔لیکن وہ مومن جو کہ خدا تعالیٰ کو ہر ایک چیز کا مالک جانتا ہے اور یقین رکھتا ہے کہ وہ ہر قسم کی دعائیں سنتا ہے۔اور اپنے بندوں کی مشکلات دور کرتا ہے۔وہ اگر دعا نہ کرے تو وہ گستاخ ہو گا اور اس کا دعا نہ کرنا ایسی گستاخی ہو گی جس کی نسبت وہ پوچھا جائے گا۔دعا کامیابی کا ذریعہ ہے۔خزانے کی کلید ہے اور مومن کا معراج ہے اور قرآن شریف میں ایسی کامل دعائیں سکھائی گئی ہیں۔جو دید زبور اور انجیل میں نہیں پائی جاتیں۔پھر قرآن شریف میں نہ صرف دعاؤں کے سکھانے پر ہی اکتفاء کیا گیا ہے۔بلکہ ان کی حقیقت بتلائی گئی ہے۔لیکن پھر کس قدر افسوس کا مقام ہے کہ مسلمان تو دعاؤں میں سست ہیں اور وہ قومیں جن کی مذہبی کتابوں میں نہ تو ایسی کامل دعائیں سکھائی گئی ہیں اور نہ ہی ان کی حقیقت بتلائی گئی ہے۔وہ دعاؤں کی پابند ہیں چنانچہ عیسائیوں میں دعا کرنے کی ظاہری صورت اب تک قائم ہے اور ان کے دعاؤں کے اوقات مقرر ہیں۔مثلاً کھانا کھانے کے بعد وہ دعا کرتے ہیں۔رات کو اپنے بچوں کو بغیر دعا کرانے کے سونے نہیں دیتے۔اس طرح ان کے بچوں کے دلوں میں دعا کی عظمت قائم ہوتی رہتی ہے۔جو بڑے ہو کر بھی اہم معاملات میں دعا کرتے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ یورپ کے بڑے بڑے خاندانوں کے رکن گو مذہب سے تعلق نہیں رکھتے۔لیکن دعائیں کرتے ہیں۔جنگ کے دنوں میں فتح کے لئے گرجوں میں دعائیں کی جاتی تھیں۔اور متواتر ایک عرصہ تک کی جاتی رہیں۔لیکن مسلمانوں کی یہ حالت ہے کہ جہاں شریعت کے دیگر احکام کو ترک کر بیٹھے ہیں۔وہاں دعاؤں سے بھی لا پروا ہو گئے ہیں۔خواہ کوئی چھوٹا معاملہ ہو یا بڑا کسی میں بھی دعا کی طرف انہیں توجہ نہیں پیدا ہوتی۔