خطبات محمود (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 414 of 558

خطبات محمود (جلد 8) — Page 414

414 میں حجاب ہوتا ہے۔جس سے وہ آپس میں بلند آواز سے سلام نہیں کر سکتے اور جب کسی سے ملتے ہیں۔تو آہستہ سے سلام کہہ دیتے ہیں یا آہستہ سے جواب دے دیتے ہیں۔اس پر سلام کرنے والا سمجھتا ہے کہ میں نے سلام کیا ہے۔یا جواب دینے والا خیال کرتا ہے۔کہ میں نے جواب دے دیا ہے۔لیکن دوسرا اس کے جواب کو بوجہ آہستہ ہونے کے نہیں سن سکتا۔اور خیال کرتا ہے کہ یہ متکبر ہے۔اس نے میرے سلام کا جواب تک نہیں دیا۔اصل وجہ یہ ہوتی ہے کہ جواب دینے والا ایسا آہستہ جواب دیتا ہے کہ سلام کرنے والا اس کے جواب کو نہیں سنتا۔کیونکہ اس کے کان اونچی آواز سننے کے منتظر ہوتے ہیں۔جب آہستہ جواب ملتا ہے۔تو وہ سن نہیں سکتے۔اس پر وہ شخص خیال کر لیتا ہے کہ اس نے میرے سلام کا جواب نہیں دیا۔حالانکہ اس نے جواب دیا ہوتا ہے مگر اس نے سنا نہیں ہو تا تو یہ ایک قسم کا حجاب ہوتا ہے۔یہی حجاب میرے اندر شروع میں تھا لوگ مجھ کو سلام کرتے تھے۔اور میں ان کے سلام کا جواب دیتا تھا۔لیکن چونکہ میں اپنی عادت کے مطابق آہستہ جواب دیتا تھا۔اس لئے وہ سن نہ سکتے تھے۔اور خیال کرتے تھے کہ میں نے سلام کا جواب نہیں دیا۔حالانکہ میں ان کے سلام کا جواب دیتا تھا۔جواب نہ سننے کی وجہ سے بعض مجھے متکبر کہتے تھے۔چنانچہ وہ لوگ جو غیر مبایع ہو گئے۔انہوں نے اسی وجہ سے میری نسبت کہا کہ وہ متکبر ہیں۔سلام کا جواب تک نہیں دیتے اور وہ یہ کہنے میں معذور تھے کیونکہ یہ میری عادت تھی کہ میں سلام کا اونچا جواب نہیں دے سکتا تھا چونکہ لوگ مجھے سلام کہہ کر اونچا جواب سننے کے منتظر ہوتے تھے۔اور ان کے کان اونچا جواب سننے کے لئے تیار ہوتے تھے۔اور میں ان کی امیدوں کے برخلاف آہستہ جواب دیتا تھا۔اس لئے وہ سن نہ سکتے تھے۔اور خیال کرتے تھے کہ ان کے سلام کا جواب نہیں دیا گیا۔شاید کسی کی سمجھ میں یہ بات نہ آئے کہ اونچی آواز سننے کے منتظر ہونے کی وجہ سے کیونکر نیچی آواز نہیں سنائی دے سکتی۔مگر یہ بالکل آسان ہے۔اس کی مثال بعینہ یہ ہے کہ اگر ایک پنسل ایک میز پر پڑی ہو اور ایک آدمی اس کو اٹھانا چاہیے۔تو اسے اٹھانے کے لئے اس کے ہاتھ کے اندر اتنی ہی طاقت پیدا ہو گی جس کے ذریعہ وہ پنسل کو اٹھا لے گا۔اور اٹھانے میں اس کو اپنے ہاتھ کی تھوڑی سی طاقت خرچ کرنی پڑے گی۔لیکن اگر وہی پنسل لیوی کے ذریعے میز سے چپکائی ہوئی ہو جس کا اسے علم نہ ہو۔تو وہ اتنی طاقت سے جو اس نے پہلے پنسل کے اٹھانے میں خرچ کی تھی۔پنسل کو میز سے نہ اٹھائے گا پھر اور طاقت ہاتھ کے اندر پیدا کر کے پنسل کو میز سے اٹھائے گا۔دوسری دفعہ وہ