خطبات محمود (جلد 8) — Page 408
408 اسی میں ان کی ترقی ہوئی اور تنزل بھی ہوا۔پھر آخری خلیفہ ان کی امت کے حضرت ابراہیم آئے۔ان کی امت کو بھی اتنا ہی وقت دیا گیا۔بعض کا اندازہ ہے کہ بارہ سو سال اور بعض کا اندازہ ہے چودہ سو سال دیئے گئے اسی میں ان کی قوم نے کمال عروج حاصل کیا اور پھر کمال انحطاط بھی ہوا۔پھر حضرت موسی آئے۔اور ان کی امت کو دو ہزار سال دیئے گئے۔ان کی امت میں کئی بار ترقی و تنزل کا دور چلا۔چار بار ترقی ہوئی اور چار ہی بار تنزل ہوا۔پہلی ترقی حضرت موسیٰ" کے زمانہ میں ہوئی اور پھر وہ قوم تباہ ہوئی۔دوسری ترقی حضرت داؤد و حضرت سلیمان علیہما السلام کے وقت میں ہوئی۔انہوں نے اپنے زمانوں میں بنی اسرائیل کو ترقی دی اور تنزل سے نکالا۔مگر ان کے بعد بنی اسرائیل ذلیل ہو گئے۔یہ تنزل تین سو سال کے اندر ہوا۔پھر جب عزرا نبی کا زمانہ آیا۔تب حضرت موسیٰ" کی امت کی ترقی ہوئی پھروہ تنزل و انحطاط میں پڑ گئے کہ حضرت مسیح کا زمانہ آیا۔اس وقت انہوں نے چوتھی دفعہ ترقی کی۔مگر چوتھی بار آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے آنے سے قبل گر گئے گویا دو ہزار سال کے اندر اندر ان پر چار دور گذرے اور فی دور پانچ سو سال کا ہوا۔جس میں انہوں نے اپنے مقصد کو حاصل بھی کیا اور پھر کھو بھی دیا۔اگر اس عرصہ کو بھی آدھا آدھا تقسیم کریں۔تو گویا اڑھائی سو سال میں انہوں نے اپنے مقصد کو پایا۔اس کے مقابلہ میں ہماری ترقی کی موجودہ رفتار سے اپنے مقصد میں کامیاب ہونے کا اندازہ چونتیس ہزار سال گمان کیا جائے۔کس قدر سادہ لوحی کی بات ہے۔اس قدر زمانہ ہمیں کس طرح مل سکتا ہے۔ہم کو بھی اتنا ہی زمانہ ملے گا جو پہلی امتوں کو ملا اور وہ اڑھائی سو سال یا تین سو سال ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی امت کو بھی ترقی کا زمانہ اتنا ہی ملا۔چنانچہ آپ نے فرمایا کہ خیر القرون قرني ثم الذين يلونهم ثم الذين یلونهم حضرت صاحب نے بھی یہی فرمایا کہ تین سو سال کے اندر ترقی ہوگی۔پس یاد رکھو۔جب تک ہم اپنے ہر لمحہ کو تبلیغ کے لئے صرف نہ کر دیں گے تب تک ہم ترقی کی شاہراہ پر گامزن نہیں ہو سکیں گے۔تم لوگ جب تک اپنی تمام قوتوں کو دین کے لئے خرچ نہ کر دو۔اپنی ہمتوں کو بلند نہ کر لو۔ہر قسم کی قربانی و ایثار کر کے نہ دکھا دو۔اس وقت تک دنیا بھی فتح ہونی مشکل ہے۔دنیا فتح ہو گی۔اسلام کا غلبہ ہو گا ہر طرف احمدیت ہی احمدیت پھیلے گی۔میرا اس پر ایمان ہے۔اور پورا پورا یقین ہے کیونکہ خدا کے نبی نے فرمایا ہے مگر ہمیں اس سے کیا؟ اگر دوسروں کے ذریعے ایسا ہوا۔مثل مشہور ہے۔جان ہے تو جہان ہے اگر خدانخواستہ ہم ناکاموں اور نامرادوں کی صف میں