خطبات محمود (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 324 of 558

خطبات محمود (جلد 8) — Page 324

324 56 (فرموده ۱۷۴ مارچ ۱۹۲۴ء) خلافت ترکی اور مسلمانان ہند تشهد و تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور نے فرمایا عام قدرتی قواعد کے ماتحت یہ بات بری سمجھی جاتی ہے کہ کوئی شخص کسی موقع پر اپنے بھائی کو یہ کہے کہ تم نے میری فلاں بات نہ مانی تو یہ نقصان ہوا۔قرآن کریم نے ایک لڑائی کے موقع کا ذکر کر کے بعض لوگوں کے متعلق کہا ہے کہ انہوں نے کہا کہ ہم نے جو مشورہ دیا تھا اس کے خلاف جن کی رائے تھی۔ان کی رائے پر عمل کیا گیا۔اس لئے نقصان ہوا۔۱۔(آل عمران ۱۵۵) اس بات کو اللہ تعالٰی نے ناپسند فرمایا ہے۔اور کہا کہ یہ منافقت ہے۔اگر تمہارے منشاء کے خلاف تھا اور اس سے نقصان بھی ہوا۔تو بھی نہیں کہنا چاہئے تھا۔کیونکہ یہ ضروری نہیں تھا کہ جو تم نے مشورہ دیا تھا وہ ضرور مانا جاتا۔تو یہ ایک تمرنی غلطی ہے جو قوموں میں رائج ہے۔اور اس کی قرآن کریم نے تصدیق فرمائی ہے۔اور ایسا کہنے کو منافقت ٹھرایا ہے۔لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی رائے کے خلاف چلنے والوں کو بھی بات کی ہے۔جو عام تمدنی حالات میں درست نہ کہ تم نے اس کی رائے کے خلاف کیا۔اس لئے نقصان ہوا۔یہ کیوں کہا گیا۔اس کی وجہ یہ ہے کہ بھائی بھائی کو یا دوست دوست کو یا چھوٹا بڑے کو یہ بات نہیں کہہ سکتا کہ تم نے میری رائے کے خلاف کیا۔اس لئے نقصان اٹھایا۔مگر جو بڑا ہے۔اور جس کو یہ حق ہے کہ دوسروں کی راہ نمائی کرے اور جس کا کام سمجھانا ہو۔اور لوگوں کی نگرانی کرنا ہو۔وہ کہہ سکتا ہے۔بچہ کو حق نہیں کہ ماں باپ کو کہے۔تم نے میری فلاں بات نہ مانی۔اس لئے نتیجہ اچھا نہ نکلا مگر ماں باپ کو حق ہے کہ وہ ایسا کہیں۔ماں باپ کے ایسا کہنے پر کوئی اعتراض نہیں کرتا۔بچہ ایسی جگہ کھیلتا ہو جہاں اسے نہیں کھیلنا چاہئے اور جہاں سے ماں باپ نے اسے روکا ہو۔پھر اگر اسے تکلیف