خطبات محمود (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 325 of 558

خطبات محمود (جلد 8) — Page 325

325 پہنچے تو ماں باپ کہتے ہیں۔ہم نے تمہیں پہلے نہیں کہا تھا کہ وہاں نہ کھیلو۔یہ ایک اخلاق کی بات ہے۔اور درست ہے ماں باپ کو کوئی نہیں کہہ سکتا کہ ان کو یہ نہیں کہنا چاہئے لیکن اگر برابر کا یا چھوٹا بڑے کو یہی بات کہے تو اس کو متکبر اور بے ادب کہا جائے گا۔کیونکہ اس کو شرعا"۔عرفا" اخلاقا قانوناً حق نہیں کہ ایسا کہے جس کو حق حاصل ہوتا ہے۔وہ کہتا ہے کہ میں نے تمہیں پہلے نہیں کہہ دیا تھا کہ تمہیں ایسا کرنے میں نقصان ہو گا۔اس تمہید کے بعد میں ایک ایسے واقعہ کی طرف توجہ دلاتا ہوں۔جو واقعہ مسلمانوں کے لئے نہایت اہم ہے اور وہ خلافت کا سوال ہے جب ترکوں کی انگریزوں سے لڑائی شروع ہوئی تو مسلمانوں نے انگریزوں کی مدد کی مولویوں نے فتوے دیئے کہ انگریزوں کی مدد کرنا فرض ہے۔اس لئے کہ وہ ہمارے حلیف ہیں اور حلیف کی مدد کرنا ضروری ہے۔اس قسم کے فتوے تنخواہوں کے خیال سے یا مربعوں کی امید پر یا عہدوں اور خطابوں کے لالچ میں یا حکام کی نظر میں پسندیدہ ہونے کے لئے دیئے گئے اور انگریزی فوج کے لئے رکروٹ بھرتی کروائے گئے۔اس وقت بھی مسلمان ترکوں کے سلطان کو خلیفتہ المسلمین کہتے تھے۔مگر خلیفتہ المسلمین کی فوجوں کے مقابلہ میں بندوقیں کندھوں پر رکھ کر گئے۔اور ان ہی مقامات مقدسہ کو جن کے لئے بر سر جدال ہوئے۔خلیفتہ المسلمین سے گولیوں اور تلواروں کے زور سے چھین لیا۔اس وقت کسی نے اس کے خلاف آواز نہ اٹھائی کیا اس وقت قرآن کریم کا حکم یاد نہ رہا تھا۔اگر چہ وہ عقیدہ جو یہ لوگ اب ظاہر کرتے ہیں۔اسلامی نہیں۔مگر میں پوچھتا ہوں۔اس وقت اس عقیدے کے لحاظ سے ان کا کیا فرض تھا۔اور انہوں نے کیا کیا۔ہم نے بھی انگریزوں کی مدد کی مگر ہم اپنے مذہبی عقیدے کی رو سے فرض سمجھتے تھے کہ ہم جس حکومت کے ماتحت رہیں۔اس کی مدد اور اس کی ہمدردی کریں ہم انگریزوں کے ساتھ ہو کر ترکوں سے لڑنے کے لئے گئے۔مگر خلیفتہ المسلمین سے لڑنے نہ گئے تھے۔کیونکہ ہم سلطان لڑکی کو خلیفتہ المسلمین نہیں مانتے۔ہم اس لئے لڑنے کے لئے گئے کہ ترک ہمارے بادشاہ کے مخالف تھے۔اور ہم اپنے بادشاہ کے مخالف سے لڑنے گئے تھے۔پس ہمارا فعل جائز اور شریعت کے مطابق تھا۔مگر جب جنگ کا نتیجہ نکلنے لگا اور صلح ہونے لگی۔تو وہ لوگ جو نہ صرف ترکوں سے لڑنے کو تیار تھے۔بلکہ لڑے تھے۔اور جنہوں نے اپنے خلیفہ کے قائم مقاموں کے سینوں پر گولیاں چلا کر اور ان سے ملک چھین کر انگریزوں کے قبضہ میں دیا تھا بگڑ گئے اور کہنے لگے۔یہ کیوں کرتے ہو۔اگر ایسا کرو گے تو یہ ہمارے مذہب میں دست اندازی ہوگی اور اس بات کے لئے انہوں نے انگریزوں کے ملک