خطبات محمود (جلد 8) — Page 25
25 سوچتے۔بعض لوگ بیماری کو بھی سوچ لیتے ہیں۔لیکن وہ آگے علاج کی فکر نہیں کرتے۔مثلاً جھوٹ بولنا، چوری کرنا، تہمت لگانا ، فسق و فجور، اللہ کی محبت کا نہ ہونا، خدا کے کلام سے محروم رہنا۔یہ سب روحانی بیماریاں ہیں۔ان کا لوگوں کو علم ہوتا ہے مگر وہ کوشش نہیں کرتے کہ ان کا علاج کریں۔وہ جانتے ہیں کہ جھوٹ بولنا بیماری ہے مگر وہ یہ نہیں جانتے کہ اس کا علاج کیا ہے۔لوگ جانتے ہیں کہ چوری کرنا بیماری ہے مگر وہ نہیں جانتے کہ اس کا علاج کیا ہے۔دوسرا قدم غفلت کا یہ ہوتا ہے کہ بعض لوگ علاج معلوم کر لیتے ہیں مگر یہ کوشش نہیں کرتے کہ علاج کریں مثلاً لوگ جانتے ہیں کہ کھانسی اور بخار میں بنفشہ مفید ہوتا ہے۔مگر خالی اس علم سے کوئی فائدہ نہیں ہوتا جب تک کہ اس کا استعمال نہ کیا جائے۔لوگوں کا بخار کو نین سے اتر جاتا ہے مگر ایک بیمار کو جو ات استعمال نہیں کرتا اس علم کا کیا فائدہ ہے۔قیدی چھوٹ بھی جاتے ہیں۔ہزاروں لوگ ہیں جو کر مرتے وقت اچھے ہو جاتے ہیں۔مگر اس سے کیا کوئی قیدی یا مریض خوش ہو جائے گا۔اصل بات تو اس کا اچھا ہوتا تھا اگر وہ اچھا نہیں ہوا تو اس علم کا کوئی فائدہ نہیں۔مگر بہت لوگ ہیں جو دین کے معاملہ میں اس بات پر خوش ہو جاتے ہیں کہ ان کو مذہب کی صداقت کا پتہ لگ گیا۔مسلمان عیسائی سے لڑتا ہے کہ ہمارا دین سچا ہے مگر خالی مذہب کی سچائی معلوم ہو جانے سے کیا فائدہ ہے جب تک کہ مسلمان اسلام کے محکموں پر عمل کرنے کی کوشش نہیں کرتا۔دونوں میں فرق کیا ہے۔وہ بھی جہنم میں جائے گا اور یہ بھی۔ایک نے حضرت عیسی کو خدا بنا دیا۔دوسرے نے اسلام کے احکام کی خلاف ورزی کی۔اس کو تو تب فائدہ تھا کہ یہ عمل کرتا اور بچ جاتا۔تب بے شک خوشی کی بات تھی لیکن اگر یہ اس پر چلتا نہیں تو کیا فائدہ۔یہ مجرم بھی ہے اور بے وقوف بھی ہے۔اس کو لوگ برا بھلا کہیں گے کہ اس کو پتہ تھا اور پھر گیا۔سو یاد رکھو کہ دنیا میں کوئی فائدہ علم کا نہیں ہوتا جب تک اس علم کو عمل میں نہ لایا جائے۔ہماری جماعت میں بھی بعض لوگ ہیں جو اس بات پر بڑے خوش ہوتے ہیں کہ انہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو پہچان لیا۔مگر ان کی بعثت کی غرض کو نہیں پہچانتے۔اس کی غرض تو نجات دنیا تھی۔اگر یہ حاصل نہیں ہوئی تو ان کے لئے آپ کا آنا اور نہ آنا برابر ہے۔بلکہ پہلے ہم اندھیرے میں گر رہے تھے اور اب ہم روشنی میں گر رہے ہیں۔یہ بات اور الزام کے قابل ہے۔جب تک اندھیرا تھا تو ہم خدا کو کہہ سکتے تھے کہ ہم کو پتہ نہ تھا۔مولویوں نے دین کی شکل کو بگاڑ رکھا تھا۔مگر جب اس نے لیمپ جلا دیا۔تو ہمارا یہ عذر بھی جاتا رہا۔جب اس نے حضرت مسیح موعود کو بھیج دیا اور اس کے ذریعہ یہ بتا دیا کہ اسلام ہی ایک سچا مذہب ہے۔ہمارا خدا زندہ خدا ہے۔وہ مومنوں کی مدد کرتا ہے۔ان سے باتیں کرتا ہے اور اپنا جلال ظاہر کرتا ہے تو پھر اگر ہم فائدہ نہ