خطبات محمود (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 227 of 558

خطبات محمود (جلد 8) — Page 227

227 ہماری جماعت کے لوگ حضرت اقدس علیہ الصلوۃ والسلام کے اس الہام کو مد نظر رکھتے ہوئے اس حقیقت اور اس نکتہ پر غور کریں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے وقت میں افراد کو جمع کیا گیا اور آپ نے ان کے سامنے صلح پر زور دیا اور اس طرح صلح کرانے کی بنیاد رکھی۔اب اس جماعت کا جسے اس مامور کے ہاتھ پر جمع کیا گیا ہے یہ کام ہے کہ اقوام میں صلح کرائے۔اور ممکن ہے یہ کام تمہاری اس موجودہ نسل سے ہی لیا جائے۔پس میں تمہیں یہ نہیں کہتا کہ آپس میں نہ لڑو۔میں تمہیں یہ نہیں کہتا کہ ایک بھائی دوسرے بھائی کے خلاف زبان درازی نہ کرے۔میں تمہیں یہ نہیں کہتا کہ بڑے چھوٹوں پر شفقت کریں اور چھوٹے بڑوں کا ادب کریں۔میں تمہیں یہ نہیں کہتا کہ خاوند بیوی سے اور بیوی خاوند سے نہ لڑے۔میں تمہیں یہ نہیں کہتا کہ بھائی بہن سے اور بہن بھائی سے نہ لڑے۔اور میں تمہیں یہ بھی نہیں کہتا کہ اپنے بچوں سے پیار اور شفقت کا سلوک کرو۔بلکہ میں تمہیں وہ کہتا ہوں جس کا حضرت مسیح ناصری نے ارادہ ظاہر کیا تھا کہ تم اپنے دشمنوں کے لئے مہربان اور دنیا کے لئے امن قائم کرنے والے بنو۔مگر اس پر عمل نہ کرا سکے۔اور ان کی جماعت اس کی مصداق نہ بنی۔حضرت مسیح ناصری نے خیال کیا تھا کہ شاید وہی ”امن کا شہزادہ" کے خطاب کے مخاطب اور اس بشارت کے مستحق ہیں۔اس لئے انہوں نے اپنے ماننے والوں کو یہ کہا مگر ان کی قوم تو جنگ کی بانی ہوئی۔در حقیقت یہ ان کے لئے بشارت نہ تھی بلکہ ان کے عظیم الشان مثیل کے لئے تھی جو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا بھی مظہر تھا۔پس خدا نے مسیح موعود کی جماعت کے لئے چاہا کہ وہ دشمنوں میں صلح کا موجب ہو خواہ دشمنوں کی کتنی ہی زیادہ اور اس جماعت کی کتنی ہی قلیل تعداد ہو۔یہ زمانہ اپنے فسادات کی کثرت کے لحاظ سے پہلے زمانوں سے بڑھا ہوا ہے۔قوم پر قوم نے چڑھائی کی ہوئی ہے ملک پر ملک چڑھائی کر رہا ہے۔ہر ایک مذہب والا چاہتا ہے کہ دوسرے مذہب والے کو فنا کر دے۔اگر ہر ایک مذہب والے کی یہ خواہش ہوتی کہ چونکہ اس کے پاس صداقت ہے اور دوسروں کے پاس نہیں اس لئے صرف وہ قائم رہے دوسرے مٹ جائیں تو یہ خواہش بری نہ تھی بلکہ قدر کے لائق تھی مگر جن مذاہب میں ذاتی زندگی کے آثار نہیں۔جن میں کوئی خوبی نہیں۔جن میں صداقت نہیں وہ چونکہ چاہتے ہیں کہ سلامت رہیں اور دوسرے مٹ جائیں تو اس حال میں ان کی یہ خواہش قدر کے لائق نہیں بلکہ نفرت کے لائق ہے۔کیونکہ تو میں ضد سے چاہتی ہیں کہ اپنے سے غیر کو فنا کر دیں۔نہ اس لئے کہ ان کے پاس صداقت ہے اس لئے وہ غیر کو فنا کر کے اس صداقت پر قائم کرنا چاہتی ہیں۔اگر ہندو سمجھتے کہ ان کے مذہب میں چونکہ صداقت اور خوبی ہے اس لئے اس سے دنیا حصہ لے اور اپنے مذاہب کو جو صداقت سے خالی ہیں چھوڑ دے تو میں ان کے اس خیال کی قدر کرتا خواہ