خطبات محمود (جلد 8) — Page 171
171 سامنے نیک اور صحیح رائے پیش کر دیں۔آگے مانا نہ مانا ان کا کام ہے مگر میں نے دیکھا ہے کہ ایسے موقع پر مسلمان خصوصیت سے ناراض ہوتے ہیں اور کہتے ہیں تم کیوں بول پڑتے ہو۔مسلمانوں نے جب کوئی ایسا قدم اٹھایا جس سے ان کو نقصان پہنچ سکتا تھا۔اور میں نے اس سے باز رکھنے کی کوشش کی تو مسلمان ناراض ہوئے اور کئی لوگوں نے مجھے کہا کہ آپ نے کیوں دخل دیا؟ اس کے متعلق اول تو میں کہتا ہوں کہ یہ عقل اور انسانیت کے خلاف ہے کہ کسی کو ہلاک اور برباد ہوتے دیکھا جائے اور اسے روکا نہ جائے۔یہ تو ایسی ہی بات ہے کہ کوئی گڑھے میں گرنے لگے اور اسے بچانے کی کوشش کی جائے تو وہ کہے تجھے کیا۔تو مجھے کیوں نصیحت کرتا ہے۔اگر ایک انسان کو دوسرے انسان سے اتنا بھی تعلق نہیں تو وہ انسان ہی کیا ہیں۔پس ایسے موقع پر اگر ہم چپ رہیں تو انسانی دائرہ سے نکل جاتے ہیں کیونکہ مومن کا یہ فرض ہے کہ جب کوئی گڑھے میں گرنے لگے تو اسے بچانے کی کوشش کرے۔چاہے گرنے والا برا ہی منائے۔پس ہمارے دخل دینے کی ایک وجہ تو یہ ہے کہ ہمیں اخلاق اجازت نہیں دیتے کہ کسی کا نقصان ہوتا دیکھیں اور چپ رہیں۔دوسرے خواہ تم ہمیں اپنے سے الگ کرو۔اور ہمیں مسلمان نہ سمجھو مگر چونکہ تمہارے معاملات کا ہم پر بھی اثر پڑتا ہے اس لئے ہمارا فرض ہے کہ تمہیں مشورہ دیں۔مثلاً اگر دو شخص ایک رسی میں بندھے ہوں ان میں سے ایک کنوئیں میں کرنے لگے اور دوسرا روکے تو وہ کے تجھے کیا ہے۔تو کیوں دخل دیتا ہے۔تو اس کے یہ کہنے سے دوسرا شخص خاموش نہیں رہ سکتا کیونکہ اس کے ساتھی کے گرنے کا اثر اس پر بھی پڑتا ہے یہی حالت ہماری ہے۔مسلمان خواہ ہمیں اپنے سے الگ کریں۔لیکن دنیا چونکہ الگ نہیں سمجھتی اس لئے ان کے نقصان کے ساتھ ہمیں بھی نقصان اٹھانا پڑتا ہے۔اور یہ کوئی خیالی بات نہیں بلکہ ہمارے پاس ثبوت ہے کہ دوسروں کی حرکات کی وجہ سے ہمارے آدمیوں نے سزا پائی۔رولٹ ایکٹ جو پنجابی زبان کے لحاظ سے ایسا "رولا" (شور) تھا جس نے سارے ملک میں رولا ڈالا دیا تھا جب وہ بنا تو اس پر بعض جگہ فساد ہو گیا۔اور گولیاں چل گئیں۔پہلے تو اہل ملک نے کچھ دنوں تک گورنمنٹ پر یا گورنمنٹ کی وفاداری کرنے والوں پر ہاتھ صاف کئے چونکہ ہماری جماعت کے آمی کسی جگہ بھی فساد میں شامل نہ ہوئے نہ جلسوں میں شریک ہوئے نہ سٹرائکوں میں نہ مظاہروں میں۔اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ بعض جگہ ان کی دوکانیں لوٹی گئیں اور ان کو مارا اور پیٹا گیا۔طرح طرح سے تنگ کیا گیا یہ تو اس وقت ہوا۔پھر جب گورنمنٹ نے انتظام قائم کر لیا تو ادھر تو اعلان کیا کہ احمدی جماعت ہر جگہ فساد سے الگ رہی ہے اور اس نے گورنمنٹ کی بڑی خدمت کی ہے۔اور ادھر لوگوں پر جو جرمانہ کیا۔اس میں احمدیوں کو بھی شامل کر لیا۔چنانچہ امرتسر، قصور، گوجرانوالہ وغیرہ میں احمدیوں کو جرمانہ میں شامل رکھا گیا اور باوجود اپیل پر اپیل کرنے کے ان کو