خطبات محمود (جلد 8) — Page 170
170 30 ہماری جماعت قانون کی پابندی اپنا فرض سمجھتی ہے (فرموده ۲۴ / اگست ۱۹۲۳ء) تشہد و تعوذ اور سورہ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور نے فرمایا۔۔میں نے پچھلی دفعہ اس امر کے متعلق کچھ بیان کیا تھا کہ مومن کو دین کا کام کس طرح کرنا چاہئیے۔چونکہ اس سوال کے حل کرنے کے لئے یہ ضرورت تھی کہ بتایا جائے مومن کا اور خدا تعالٰی کا کیا تعلق ہے۔اور مومن کی ایمان کے لحاظ سے کیا ذمہ داریاں ہیں۔اس لئے میں نے پہلے اس امر کو بیان کیا کہ مومن اور خدا کا کیا تعلق ہے۔باقی حصہ کے متعلق میں نے وعدہ کیا تھا کہ اگر اللہ تعالیٰ نے چاہا تو اگلے جمعہ بیان کروں گا۔لیکن آج چونکہ اتفاقا " دیر ہو گئی ہے اور وقت تنگ ہے۔اس حصہ کو اگلے جمعہ پر ملتوی کرتا ہوں اور آج میں ایک اور بات کی طرف دوستوں کو توجہ ولاتا ہوں اور ان لوگوں کو بھی جن تک میرا یہ خطبہ پہنچے۔خواہ وہ احمدیہ جماعت میں ہوں یا نہ ہوں۔مگر مسلمان کہلاتے ہوں۔جو کچھ میں اس وقت کہنا چاہتا ہوں وہ ایسے امر کے متعلق ہے جو واقعات حاضرہ سے تعلق رکھتا ہے مگر میں نے دیکھا ہے لوگوں کو خواہ کیسی ہی اچھی بات بتائی جائے اس وقت تک اس کی طرف توجہ نہیں کرتے جب تک تجربہ کر کے اور ٹھوکریں کھا کر نقصان نہیں اٹھا لیتے۔پچھلے دنوں مسلمانوں میں خصوصاً اور تمام اہل ہند میں عموما ایک ہیجان پیدا ہوا تھا۔اس وقت مسلمانوں نے ایسی حرکات کیں۔جو اخلاقا" عقلا" اور مذہبا " ناجائز تھیں۔اس وقت میں نے محض اخلاص سے اپنے اہل ملک کو عموما اور ان لوگوں کو خصوصاً جو نام میں ہمارے ساتھ شریک ہیں۔صحیح مشورہ دیا تھا۔کیونکہ خواہ عقائد کے لحاظ سے ہم سے ان کا کتنا ہی اختلاف ہو۔مگر چونکہ مسلمان کہلاتے ہیں اس لئے سیاسی لحاظ سے اگر ان کو فائدہ پہنچے تو ہم بھی فائدہ کے مستحق ہیں۔چاہے ہمیں وہ فائدہ نہ اٹھانے دیں۔اور اگر انہیں نقصان پہنچے تو ہم کو بھی نقصان پہنچتا ہے۔چاہے وہ ہمیں کافر کہیں کیونکہ دنیا اس برتاؤ سے ہمیں مستثنیٰ نہیں کرتی جو مسلمانوں سے کرتی ہے اور ہم۔۔۔اس برتاؤ سے الگ نہیں ہو سکتے جو مسلمانوں سے کیا جاتا ہے۔اس لئے ہمارا حق ہے کہ ہم ان کے