خطبات محمود (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 158 of 558

خطبات محمود (جلد 8) — Page 158

158 سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس کی وجہ کیا ہے؟ کیا خدا تعالیٰ کو یہ پسند ہے کہ کسی کا بچہ بچ جائے۔بہ نسبت اس کہ وہ ہدایت پا جائے۔کیا خدا کو یہ زیادہ پسند ہے کہ کوئی مقدمہ سے بچ جائے۔بہ نسبت اس کے کہ وہ ہدایت پا جائے۔کیا خدا کو یہ زیادہ مرغوب ہے کہ کسی کو نوکری مل جائے یہ نسبت اس کے کہ وہ ہدایت پا جائے۔کیا خدا کو یہ زیادہ منظور ہے کہ کوئی قید سے رہا ہو جائے۔بہ نسبت اس کے کہ شیطان کی قید سے رہا ہو جائے۔اگر نہیں تو پھر وہ کیوں اور ساری دعائیں تو سنتا ہے مگر جو ہدایت کے لئے دعا کی جاتی ہے رو کر دیتا ہے۔بہت لوگ ہیں جن کے دل میں خواہش اور تڑپ ہوتی ہے یا کم از کم جو سمجھتے ہیں کہ ان کے دل میں خواہش ہے کہ ہدایت ملے مگر ان کو نہیں ملتی۔گو ان کے دل میں یہ سوال نہ پیدا ہو کہ کیا وجہ ہے اور دعائیں قبول ہو جاتی ہیں اور یہ قبول نہیں ہوتی۔مگر یہ ایک اہم سوال ضرور ہے بہتوں کے دل میں یہ سوال تو پیدا ہو گا کہ بیٹا ہونے کے لئے دعا کریں۔اور بیٹا نہ ہو تو کہیں گے کیوں یہ دعا قبول نہیں ہوئی۔قید سے رہائی کے لئے دعا کریں اور رہا نہ ہوں تو کہیں گے کیوں رہائی نہیں ہوئی۔بیوی کے لئے دعا کریں مگر بیوی نہ ملے تو سوچیں گے کیوں ان کی دعا نہیں سنی گئی۔مال کا نقصان نہ ہونے کی دعا کریں۔مگر نقصان ہو جائے تو فکر کریں گے کہ کیوں دعا قبول نہ ہوئی۔مال ملنے کے لئے دعا کریں اور نہ ملے تو انہیں دعا کے قبول نہ ہونے کا خیال آئے گا۔اور بہت ہیں جو کہہ دیتے ہیں کہ دعا کبھی قبول ہی نہیں ہوتی۔یہ ایک ڈھکوسلا ہے۔مگر ایسے بہت کم ہونگے کہ بیٹے کے لئے دعا کریں اور وہ پیدا ہو جائے۔قید سے رہائی کے لئے دعا کریں اور رہا ہو جائیں۔بیماری سے شفا کے لئے دعا کریں اور شفا ہو جائے۔مگر صراط مستقیم کے لئے دعا کریں اور یہ منظور نہ ہو تو ان کے دل میں خیال پیدا ہو کہ کیوں قبول نہیں ہوئی۔ایسے لوگ بہت کم بلکہ نہیں ہیں جو یہ کہیں کہ ہدایت کے لئے ہم دعائیں کرتے ہیں پھر کیا وجہ ہے کہ ہدایت نہیں ملتی۔اس سے میں سمجھتا ہوں یہ سوال ہی ان کے دل میں پیدا نہیں ہوتا۔حالانکہ انسان کی پیدائش کی غرض یہی ہے کہ صراط مستقیم حاصل کرے کیونکہ خدا تعالی فرماتا ہے ما خلقت الجن والانس الا ليعبدون (الذریت : (۵۷) ہم نے انسان کو اس لئے پیدا کیا ہے کہ ہمارا بندہ بنے اور کوئی بندہ کس طرح بن سکتا ہے جب تک آقا کے پاس نہ ہو۔اور جب تک آقا کے پاس جانے کا رستہ ہی معلوم نہ ہو۔اس وقت تک بندہ کس طرح بن سکتا ہے۔پس اگر انسان کی پیدائش کی غرض خدا تعالیٰ کا عبد بننا ہے۔اور یقینا ہے تو یہ بھی اس کی غرض ہے کہ صراط مستقیم پائے۔اور دوسرے الفاظ میں صراط مستقیم پانے کی دعا کا یہ مطلب ہے کہ جس مقصد کے لئے انسان پیدا کیا گیا ہے اسے حاصل کرلے۔پھر کیا یہ عجیب بات نہیں کہ ان باتوں کے لئے جب انسان دعائیں کرتے ہیں جو اصل مقصد نہیں وہ تو پوری ہو جاتی ہیں اور اصل مقصد کے لئے جو دعا کرتے