خطبات محمود (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 157 of 558

خطبات محمود (جلد 8) — Page 157

157 28 صراط مستقیم کی دعا قبول نہ ہونے کی وجہ (فرموده ۱۰ / اگست ۱۹۲۳ء) تشهد و تعوذ اور سورۂ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور نے فرمایا۔ایک مسلمان دن میں ۲۷-۲۸ دفعہ سے لیکر ۵۰-۶۰ دفعہ تک روزانہ اللہ تعالٰی سے دعا مانگتا ہے۔اهدنا الصراط المستقیم کہ سیدھا رستہ دکھا۔مگر باوجود اس کے کہ اس قدر دعائیں کرتا ہے۔پھر بھی یہ دعا بالعموم ہم دیکھتے ہیں اس زمانہ میں قبول نہیں ہوتی۔اس کو سیدھا رستہ نہیں دکھایا جاتا۔اس کے مقابلہ میں ہم دیکھتے ہیں ایک عورت کا بچہ بیمار ہوتا ہے اور ایسی حالت کو پہنچ جاتا ہے کہ اطباء اس کی زندگی سے مایوس ہو کر کہدیتے ہیں اب یہ نہیں بچے گا۔ڈاکٹر اس کی زندگی کے متعلق شبہ میں پڑ جاتے ہیں۔دیکھنے والوں کو یقین ہو جاتا ہے کہ بچہ بچنے والا نہیں۔لیکن وہ عورت اللہ تعالٰی کے آگے گڑگڑاتی ہے اور بچہ کی صحت کے لئے دعا مانگتی ہے۔اور وہ بچہ بچ جاتا ہے۔اسی طرح ہم دیکھتے ہیں جب کوئی انسان انتہائی مشکلات میں مبتلا ہو جاتا ہے اور خدا تعالیٰ کے حضور گریہ و زاری کرتا ہے تو اس کی مشکلات دور ہو جاتی ہیں۔ایک شخص مقدمات میں گرفتار ہو جاتا ہے۔اور اس کے بچنے کی بظاہر کوئی صورت نظر نہیں آتی لیکن وہ خدا تعالیٰ کے سامنے عاجزی اور فرونتی اختیار کرکے دعا کرتا ہے اور رہا ہو جاتا ہے۔اسی طرح قید خانہ میں پڑا ہوا انسان جب دعا کرتا ہے تو چھوٹ جاتا ہے۔حتی کہ بعض دفعہ تلوار کے نیچے آیا ہوا بھی دعا کے ذریعہ بچ جاتا ہے۔لیکن جب کہ یہ دعائیں قبول ہوتی ہیں اور کثرت سے قبول ہوتی ہیں اور کوئی انسان ایسا نہیں جس کی اس قسم کی ایک سے زیادہ دعائیں قبول نہ ہوئی ہوں۔حتی کہ دہر یہ بھی مصائب میں گرفتار ہو کر جب کہتا ہے کہ اے خدا اگر تو ہے میں تو نہیں مانتا کہ تو ہے لیکن اگر تیری ہستی ہے تو مجھے اس مصیبت سے بچا۔تو خدا تعالیٰ اس کی دعا بھی قبول کر لیتا ہے اور وہ بچ جاتا ہے۔لیکن تمام کے تمام مسلمان کہلانے والے لوگ مگر ان میں سے وہ جو نماز پڑھتے ہیں۔دن میں متعدد بار یہ دعا کرتے ہیں اور کہتے ہیں اھدنا الصراط المستقیم مگر انہیں صراط مستقیم حاصل نہیں ہوتی۔اب