خطبات محمود (جلد 8) — Page 542
542 اور بیوقوف کہلانے لگتا ہے۔لوگ کہتے ہیں کہ یہ سٹھیا گیا ہے۔بڑہاپے نے اس کی عقل ماردی ہے۔تو وہ علوم اور فنون جن میں کوئی قوم ترقی کرتے کرتے آگے نکل جاتی ہے ایک وقت اور ایک حد ایسی آجاتی ہے کہ وہ اپنی دماغی طاقتوں کو صرف کر بیٹھتے ہیں تب وہ قوم دنیا سے مٹ جاتی ہے۔اور ایک دوسری قوم اپنی تازہ قوتوں کے ساتھ اس کے قائم مقام ہو جاتی ہے۔اگر دنیا میں ایک ہی نسل قائم رہتی تو اس کا نتیجہ یہ ہوتا کہ تمام علوم اور فنون دنیا سے مٹ جاتے پس سنت اللہ اسی طرح پر جاری ہے کہ جس وقت ایک نسل اپنی قوت اور طاقت کو خرچ کر لیتی ہے اور اس کے قومی کمزور پڑ جاتے ہیں۔تو پھر خدا تعالٰی ایک اور نسل کو کھڑا کر دیتا ہے جو پہلی ترقی اور علوم و فنون کو اور زیادہ ترقی دینے کا موجب ہوتے ہیں۔اسی نشو و نما اور اس ارتقاء کا نتیجہ وہ حالت ہے۔جو آج کل جاری ہے۔اور اسی تبدیل ہونے والے مزدوروں کی مزدوری کا نتیجہ اسلام بھی ہے۔اگر آدم کے بعد اعلیٰ سے اعلیٰ نسلیں دنیا میں نہ پیدا ہو تیں تو اسلام کی اعلیٰ تعلیم بھی دنیا میں نہ آتی۔جو تعلیم خدا تعالیٰ نے آدم کو دی تھی۔وہی تعلیم بعد میں آنے والے انبیاء کو بھی دی جاتی اگر اس ارتقائی ترقی کا سلسلہ دنیا میں نہ ہوتا تو پھر یہودیت کے بعد قرآن کریم کی پاک اور اعلیٰ تعلیم نہ آتی۔کیونکہ انسانی دماغ ایک حد تک ترقی کرتے ہیں۔اور پھر کام کرتے کرتے تھک جاتے ہیں تب ان پر ہلاکت وارد ہوتی ہے اور وہ اپنی ہلاکت کے ساتھ دوسری قوم کی ترقی کا موجب ہو جاتی ہے۔اگر دنیا میں موت نہ ہوتی تو صرف یہی نہیں کہ تمام ترقیات کا دروازہ بند ہو جاتا بلکہ تھوڑے ہی عرصہ میں زندگی لوگوں کے لئے وبال جان ہو جاتی۔اور بیٹے اپنے والدین کو اپنے ہاتھوں سے ذبح کرنے کے لئے تیار ہو جاتے مثلاً چار پانچ سو سال کسی انسان پر موت وارد نہ ہو اور آدمیوں کی اتنی کثرت ہو جائے کہ زمین پر چلنے پھرنے سونے بلکہ قدم رکھنے کی بھی جگہ نہ رہے۔تو اولادیں اپنے بزرگوں کو ذبح کرنے کے لئے چھرے لے کر تیار ہو جائیں۔غرض دنیا کے تمام کاروبار میں ہمیں ایک ارتقاء نظر آتا ہے۔مگر جو الٹی سلسلے ہوتے ہیں۔ان کا ارتقا ایک نمایاں ارتقا ہوتا ہے۔الہی سلسلوں پر بھی مصائب اور مشکلات آتی ہیں۔مگر ان پر خدا تعالٰی کا ایک خاص فضل ہوتا ہے۔جو کہ اللہ تعالی کے پاک نبیوں کی جماعتوں سے ہی خصوصیت رکھتا ہے۔مثلاً یہ بھی ایک فضل ہے کہ اللہ تعالیٰ مصائب کے آنے سے پہلے ان کو مصائب کے آنے کی اطلاع دیتا ہے۔پس جب اس علم کے مطابق ان پر کوئی مصیبت