خطبات محمود (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 537 of 558

خطبات محمود (جلد 8) — Page 537

537 آج ایک حال کی چیز ماضی ہو سکتی ہے۔مگر ساتھ ہی اس کا یہ قانون بھی ہے کہ وہ جو اس کے حضور کھڑے ہو کر ایاک نعبد و ایاک نستعین کہتا ہے اس کی کوئی چیز خواہ کتنی ہی دور ہو۔خواہ کسی زمانہ اور کسی دنیا میں ہو۔اس کی حفاظت کرتا ہے۔میں ایسے خدا پر جو رب العالمین ہے رحمان ہے اور رحیم ہے۔مالک یوم الدین ہے کامل یقین اور ایمان لاتے ہوئے اپنی جماعت کے لوگوں کو جو یہاں موجود ہیں اور ان کو جو باہر ہیں۔اس آواز کی طرف بلاتا ہوں جو ایاک نعبد میں پائی جاتی ہے۔دنیا ایک حالت پر قائم نہیں زمانہ بدلتا ہے اور انسانی خادموں میں سے بعض خادم جو اسباب کے لحاظ سے نہایت مفید اور کار آمد ہوتے ہیں وہ انسان سے جدا ہو جاتے ہیں۔پس میں آپ لوگوں کو اس ایک ہی کہف اور غار کی طرف بلاتا ہوں۔جس کہف اور جس غار سے باہر رہ کر تم محفوظ اور مامون نہیں رہ سکتے۔ایاک نعبد و ایاک نستعین کہنے والو تمہاری مثال اس بچے کی نہ ہو جو سمجھتا ہے کہ کوٹ کی جیب میں روپے ہیں۔حالانکہ وہ بالکل خالی ہو۔پس تم اس زبان کے ساتھ ایاک نعبد و ایاک نستعین مت کہو اگر تمہارے دل اس حقیقت سے خالی ہیں۔تم اپنی حالتوں پر غور کرو۔تمہاری حالتیں ایک کمزور بچے سے بھی زیادہ کمزور ہیں۔مجھے تمہاری حالتوں کو دیکھ کر ایک جنون کی سی حالت ہو جاتی ہے ایک چھوٹا بچہ جنگل میں اپنی ماں سے جدا نہیں ہوتا۔میں بھی تم کو نصیحت کرتا ہوں کہ اس خدا سے جو ماں سے بھی زیادہ محبت کرنے والا ہے۔تم جدا نہ ہو۔میں نے آدھی دنیا کا سفر کیا ہے اور پھر کر دیکھا ہے۔ہر جگہ تمہاری مخالفت ہو رہی ہے۔نہ کسی ملک میں تمہاری جانیں محفوظ ہیں۔نہ تمہارے مال محفوظ ہیں۔کوئی چیز تمہاری حفاظت اور پناہ کا موجب نہیں ہو سکتی۔صرف ایک ہی دروازہ ہے۔جہاں تم کو پناہ مل سکتی ہے۔وہ خدا تعالیٰ کی گود ہے۔جو ماں اور باپ سے بھی زیادہ حفاظت کی جگہ ہے۔۔میں اپنے جسم کو طاقتوں سے خالی پاتا ہوں لیکن میں جانتا ہوں کہ اگر تم میری اس نصیحت کو مانو گے تو ہر ایک زمانہ میں اللہ تعالیٰ تمہاری حفاظت کرے گا۔لڑائیوں جھگڑوں کو چھوڑ دو۔اپنے معاملات کو درست کرو۔دنیا کی کسی چیز کو اپنا خدا نہ بناؤ۔آج دنیا میں کسی جگہ بھی حقیقی پرستش خدا تعالی کی نہیں ہو رہی۔پس تم بھی اپنی بستیوں اور غفلتوں کی وجہ سے اپنے آپ کو اس کے عذابوں کا مستحق نہ بناؤ۔بدر کی جنگ میں آنحضرت مسلم رو رو کر دعا کرتے تھے کہ الہی اگر اس چھوٹی سی