خطبات محمود (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 538 of 558

خطبات محمود (جلد 8) — Page 538

538 جماعت کو تو نے ہلاک کر دیا۔تو پھر دنیا پر تیری پرستش کرنے والا کوئی نہیں رہے گا۔پس جس خدمت کو تم نے اپنے ہاتھ میں لیا ہے۔اس کو پوری توجہ سے سرانجام دو۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ جو روح اور جو کچی روحانیت اور اخلاص پیدا ہو سکتا ہے۔تو وہ اسی جماعت میں ہی پیدا ہو سکتا ہے۔مگر مجھے اس روحانیت کے آدمی تم میں کم نظر آتے ہیں۔پس پیشتر اس کے کہ اصلاح کا موقعہ جاتا رہے تم اپنی اصلاح کرو۔وہ کیسی بھیانک اور تکلیف دہ موت ہے جو شک اور شبہ کی حالت میں ہو ایسی موت کا خیال بھی موت سے بدتر ہے۔اپنے کمزور بھائیوں کی مدد کرو۔اور اپنے قصور واروں کے قصور معاف کرو۔کب تم میں دو بھائیوں والی محبت جو حضرت مسیح موعود کی وجہ سے پیدا ہوئی چاہیئے تھی پیدا ہو گی؟ میں برابر اس سفر میں اپنے خطوں کے ذریعے سے تم کو اس امر کی طرف توجہ دلاتا رہا ہوں۔مگر اس سفر کی واپسی پر میں کچھ ایسی مشکلات میں مبتلا ہو گیا کہ میں اس تحریک کو جاری نہ رکھ سکا۔مگر پرسوں خدا نے اپنی مشیت کے ماتحت اس بوجھ سے مجھے فارغ کر دیا۔پس اب میں پھر اسی سلسلہ کو شروع کرتا ہوں۔مجھ میں لمبے وعظ و نصیحت کی بھی طاقت نہیں۔اس لئے اس وقت میں صرف یہی کہتا ہوں کہ آپ اپنی حالتوں کو دیکھیں۔حضرت مسیح موعود کے کلام پر غور کریں تمہاری حالت دنیا میں قیموں سے بھی بد تر ہے۔قیموں کے تو کچھ نہ کچھ رشتہ دار بھی ہوتے ہیں جن کو کبھی نہ کبھی ان کی خبر گیری کا خیال آ جاتا ہے۔مگر تمہارے تو رشتہ دار بھی کوئی نہیں۔تمہاری مثال اس زبان کی ہے۔جو بتیس دانتوں کے درمیان ہوتی ہے مگر اس کے لئے تو وہ دانت بھی حفاظت کا موجب ہوتے ہیں۔مگر تمہارے دانتوں میں وہ قوت ور استقامت بھی نہیں۔وہ چاروں طرف سے ہلتے رہتے ہیں۔پس اپنے اندر محبت اور الفت پیدا کرو۔پیشتر اس کے کہ کوئی مسیح موعود کی روح کا انسان تم میں نہ رہے۔تم اپنے اندر اس روح کے نئے آدمی پیدا کرو۔تاکہ خدا تم کو اس طرح نظر آجائے۔جس طرح سورج یا چاند نظر آجاتا ہے۔میں زیادہ تم کو کیا کہوں۔میں خدا ہی کو کہتا ہوں۔ایاک نعبد و ایاک نستعین اهدنا الصراط المستقیم صراط الذین انعمت عليهم غير المغضوب علیہم ولا الضالین آئین میں نے جہاز کے تختوں پر اپنے آنسو بہائے اور متعدد بار غیر ملکوں کی زمین کو اپنی آنکھ کے پانی سے تر کیا۔تاکہ خدا تم کو اپنا بنا لے۔اور تم کو اپنی رحمت کی گود میں لے لے۔اور وہ تم پر اور تمہارے کاموں پر راضی ہو جائے۔مگر میری بے تابی ابھی تک دور نہیں ہوئی۔کیونکہ مجھے ابھی تک وہ اصلاح تم میں نظر نہیں آتی۔میری مثال اس شمع کی ہے۔جو دوسروں کو روشن کرنے کے لئے خود پگھل جاتی ہے۔اگر