خطبات محمود (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 532 of 558

خطبات محمود (جلد 8) — Page 532

532 تو بہت ہیں مگر رب العالمین خدا تعالی کے سوا کوئی نہیں پس تمام حمد اور تعریف کا مستحق بھی وہی ہو ایک غلطی کرنے والا انسان جو کسی انسان کی غلطی کرتا یا اس کے کسی حکم کی خلاف ورزی کر بیٹھتا ہے اور پھر وہ اس کے پاس جس کا اس نے قصور کیا معافی مانگنے کے لئے جاتا ہے۔تو اس کی حالت دو حالتوں سے خالی نہیں۔یا تو جس کا اس نے قصور کیا ہے۔اس کو اس امر کا یقین ہو گا کہ قصور وار واقعہ میں نادم اور پشیمان ہے اس لئے وہ اس کی معافی کی درخواست کو درست سمجھے گا اور یا اس کو اس امر کا یقین ہو گا کہ معافی مانگنے والا جھوٹ بول رہا ہے اور اس کو دھوکہ اور فریب دے رہا کا ہے۔تو وہ اس کا قصور کبھی بھی معاف نہیں کرے گا ہاں دوسری صورت میں وہ کبھی معاف کر دیتا ہے اور کبھی نہیں بھی کرتا لیکن جھوٹ اور فریب کی حالت میں وہ یہی خیال کرے گا کہ اس وقت تو اس کا راز فاش ہو چکا ہے اور اس کی غلطی ظاہر ہو چکی ہے۔اس لئے یہ دھوکہ کی راہ سے معافی مانگنا چاہتا ہے۔لیکن جب اس کو معافی مل جائے گی۔اور اس کے راز کا اخفا کر دیا جائے گا تو ہو سکتا ہے کہ یہ کوئی ایسی راہ اختیار کرے جس کا مجھے علم ہی نہ ہو سکے اور معلوم نہیں یہ مجھے کیا نقصان پہنچا دے اور جب اس کو اس بات کا یقین ہوتا ہے کہ معافی مانگنے والا سچے دل سے معافی مانگ رہا ہے تو بعض دفعہ تو کہہ دیتا ہے کہ جامیں نے تجھے معاف کر دیا اور کبھی یہ کہہ دیتا ہے کہ اب معافی مانگنے کا کیا فائدہ؟ جو نقصان تم نے کرنا تھا وہ تو کر دیا۔مگر وہ خدا جو رب العالمین خدا ہے۔اس کے حضور ایک قصور وار نہایت نادم اور شرمندہ ہو کر توبہ کرتا ہے اور اس کو یقین ہوتا ہے کہ میں اپنے قصور کی بچے دل سے معافی مانگ رہا ہوں۔مگر باوجود اس کے کہ خدا تعالیٰ جانتا ہے کہ اس توبہ کرنے والے نے کل کو تو بہ توڑ دینی ہے۔کیونکہ وہ عالم الغیب اور علیم بذات الصدور ہے اس لئے وہ جانتا ہے کہ آج تو اس کے دل کی یہ کیفیت ہے کہ یہ سخت نادم اور پشیمان ہو کر اپنے قصور سے توبہ کر رہا ہے مگر کل کو اس کے دل کی یہ حالت نہ رہے گی۔مگر کیا اس علم کے ہوتے ہوئے کہ یہ توبہ کرنے والا انسان کل کو پھر اس کی نافرمانی کرنے والا ہے۔آج تو یہ نادم اور پریشان ہے۔لیکن کل کو پھر یہ اس کی حکم عدولی کرے گا کیا خدا تعالیٰ اس انسان کو ٹھکرا اور دھتکار دیتا ہے؟ نہیں بلکہ وہ خدا جو رب العالمین خدا ہے وہ کہتا ہے کہ جس طرح میں کل کا خدا ہوں آج کا بھی خدا ہوں۔پس جو حالت آج اس کے قلب کی ہے۔اسی کے مطابق آج میں اس سے سلوک کروں گا حالانکہ وہ جانتا ہے کہ کل کو اس نے توبہ توڑ دینی ہے اور اس کو