خطبات محمود (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 53 of 558

خطبات محمود (جلد 8) — Page 53

53 ہے۔افسوس ہے کہ ہماری جماعت میں ایک حصہ ہے جو خطرناک جنگ کو دیکھتے ہوئے بھی چھوٹی چھوٹی باتوں کو نہیں چھوڑتا۔ایک لوگ تو وہ ہیں جو اپنا مال قربان کرتے ہیں۔اپنے آرام و اطمینان کو چھوڑتے ہیں کہ خدمت دین کریں مگر ان لوگوں کو کیسے خدمت کے لئے تیار سمجھا جائے جو زید و بکر سے جنگ میں مصروف ہیں۔وہ اپنے آپ کو احمدی کہتے ہیں۔ان کو کیسے خیال کیا جا سکتا ہے کہ وہ بڑی قربانی کریں گے جبکہ وہ چھوٹی چھوٹی چند روپیہ کی قربانی نہیں کر سکتے۔کیا وجہ ہے کہ خدا کے دین کی حالت خطرناک ہے اور وہ اپنے ذاتی جھگڑوں کو نہیں چھوڑتے۔یہ وہ فریق ہے جو جماعت کے ماتھے پر داغ ہے اس کو جس قدر جلد منایا جائے اچھا ہے۔ممکن ہے کہ وہ لوگ حمیت اسلام کے مدعی ہوں۔وہ کہتے بھی ہیں کہ ہمیں اسلام سے محبت ہے مگر وہ بڑی قربانی کیا کریں گے جب وہ بھائی بھائی ہو کر لڑتے ہیں۔اگر اسلام کا خطرہ ان سے چند پیسے کے خطرے کو نہیں بھلوا سکتا تو ان کو اسلام کی حالت پر کیا ہے۔اگر ایک باپ اپنے بیٹے کو ڈوبتا دیکھے تو وہ کروڑوں روپوں کو پھینک دے گا تاکہ اپنے بچے کو بچا سکے۔لیکن جب ایک باپ کی محبت بچے کے لئے اتنی ہے اور وہ اس کو بچانے کے لئے اتنی قربانی کرتا ہے تو وہ لوگ جو اسلام سے محبت رکھتے ہیں جب دیکھیں کہ اسلام کی یہ حالت ہے کب کسی چیز کا خیال کر سکتے ہیں۔اگر ان لوگوں کو اسلام سے محبت ہو تو وہ ضرور ان ذاتی جھگڑوں کو بھول جائیں اور ان کے سامنے ایک ہی دشمن رہے۔جس شخص کی یہ حالت نہیں ہوتی اس کے متعلق معلوم ہو گا کہ اس کا محبت اسلام کا دعویٰ جھوٹا۔جو لوگ اس مرض میں مبتلا ہیں۔ان کو سمجھانے کے لئے ان سے عملی نفرت سے مجبور کیا جائے کہ وہ یا تو ان باتوں کو چھوڑ دیں یا ہم سے جدا ہو جائیں۔ان کی اصلاح کا یہی ذریعہ ہے کہ باقی بھائی ان کے افعال سے نفرت کا اظہار کریں۔جب تک وہ لوگ ہم میں سے کہلاتے ہیں ہم ان کو مجبور کریں گے کہ وہ اس روش کو چھوڑیں۔جب وہ ہمارا کہلانا چھوڑ دیں گے تو ہم ان سے کچھ نہیں کہیں گے۔وہ لوگ جماعت کو بدنام کرتے ہیں۔ان کو سزا دی جائے یا وہ اس طریق کو چھوڑ کر ہم سے مل کر رہیں یا علیحدہ ہو جائیں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ابو جہل سے بولنا منع نہیں فرمایا۔مگر ان لوگوں سے بولنے سے ممانعت کی جو مسلمان کہلاتے تھے۔جن کا آپ سے تعلق تھا کہ انہوں نے مسلمان کہلاتے ہوئے ایسے افعال کا ارتکاب کیا۔اسی طرح یہ لوگ جو اپنے جھگڑوں کے باعث جماعت کی بدنامی کا موجب ہو رہے ہیں۔ان کو ہم سے الگ ہو جانا چاہئیے یا اپنی اصلاح کرنی چاہیئے اور اس مقصد کی تکمیل کے لئے جماعت سے مل کر کام کرنا چاہیے جو جماعت کو درپیش ہے۔وہ اپنے اعمال و حرکات سے اس کا ثبوت دیں۔اپنے