خطبات محمود (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 526 of 558

خطبات محمود (جلد 8) — Page 526

526 جب سمجھتا ہے کہ ایسا ہو گا اور اس سے کچھ بڑھ کر ہو تو وہ کہتا ہے کہ یہ فضل ہے۔لیکن جہاں جو کچھ ہوا ہو۔وہ خیال سے بالا تر ہی ہو اور ہماری کوشش کے مقابلہ میں سینکڑوں گنا نتیجہ ظاہر ہو۔تو کون ہے۔جو یہ اقرار نہ کرے گا کہ یہ محض خدا کا فصل اور اس کے رحم کے برکات ہیں اگر ایک شخص بھی ہمارے پاس نہ آتا۔ایک بھی ہمارا لیکچر نہ ہوتا تو میرے لئے یہ ایک معمولی امر ہوتا۔کیونکہ میں تو اس امید اس خیال اور غرض سے نکلا ہی نہ تھا۔میری غرض تو وہی تھی کہ خود جا کر حالات کا معائنہ کروں۔پس میرے لئے جو کچھ ہے وہ تو سرا سر اس کا رحم اور فضل ہی ہے۔اور اگر تم میں سے کسی کو یہ خیال تھا۔تو اس کی امید اور خیال سے بھی بہت بڑھ کر خدا نے فضل کیا ہے۔اور یہ اس کا محض احسان اور کرم ہے ایسی حالت میں مومن کا فرض ہے کہ وہ خدا تعالیٰ کی نعمتوں کا شکر کرے۔یہ شکر اس کے انعام کو بڑہائے گا کیونکہ خدا تعالیٰ فرماتا ہے۔ان شکر تم لازیدنکم و ان کفر تم ان عذابی شدید (ابراہیم (۸) میری نعمت کا اگر تم شکر کرو گے۔تو ضرور ضرور ہم ان انعامات کو بڑھائیں گے۔اور اگر تم شکر نہ کرو اور قدر نہ کرو۔تو پھر یاد رکھو کہ یہی نہیں کہ وہ انعام چھن جائے گا بلکہ عذاب ہو گا۔اس سے بڑھ کر واپس دینا پڑے گا پس ضروری ہے کہ ہم خدا تعالیٰ کے ان انعامات پر اس کے بہت ہی شکر گزار ہوں۔اور اس شکر گذاری کو اپنے اعمال سے ثابت کر کے دکھائیں۔دیکھو اتنے قلیل عرصہ میں کہ خواب کی طرح گذر گیا۔اس نے کس قدر فضل اور کرم ہم پر کیا ہے۔جو کامیابی ہوئی ہے اور جس رنگ میں ہوئی ہمارے وہم و خیال میں بھی نہ تھی۔اور نہ ہمارے پاس اس کے اسباب تھے۔مگر اس نے آپ ہی اسباب پیدا کئے۔اور آپ ہی ان فضلوں سے ہم پر احسان کیا۔پس ان انعامات کو قدر اور شکر کی نظر سے دیکھو۔تاکہ اس کے فضلوں کے اور دروازے تم پر کھلیں۔ایسا نہ ہو کہ تم ناقدری کر بیٹھو۔اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے ہم میں شکر گزاری کی روح نفخ کرے۔اور ہم کو توفیق دے کہ اس کے شکر گزار بندے بن جاویں۔آمین۔(الفضل ۱۶ دسمبر ۱۹۲۴)