خطبات محمود (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 461 of 558

خطبات محمود (جلد 8) — Page 461

461 72 (فرموده ۱۱ جولائی ۱۹۲۴ء) سفر یورپ اور جماعت احمدیہ کا انتظام مشهد و تعوذ اور سورۃ فاتحہ سورۃ فلق اور سورۃ والناس کی تلاوت کے بعد حضور انور نے فرمایا : جیسا کہ دوستوں کو معلوم ہے اگر اللہ تعالیٰ کی مشیت اور ارادہ ہوا تو تجویز ہے کہ اس کے فضل اور رحم کے ماتحت اس سفر کو اختیار کیا جائے۔جس کے متعلق اعلان کیا جا چکا ہے۔اس سفر کی خبر سن کر ہی بہت سے دوست آج بیرون جات سے تشریف لائے ہوئے ہیں۔جنہوں نے اپنے اخلاص اور اپنی محبت کا اس طرح ثبوت دیا ہے۔میں آج کا خطبہ جمعہ اسی سفر کے متعلق ہدایات کے بیان کرنے میں صرف کرنا چاہتا ہوں :۔سب سے پہلی بات تو یہ ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے دو آدمی ہوں تو ان میں ایک امیر ہونا چاہیئے۔مجھے ہندوستان میں جب کبھی سفر کا موقع پیش آیا ہے اس وقت اس بات کی ضرورت ہوتی تھی کہ قادیان کی جماعت کے لئے امیر مقرر کیا جائے۔لیکن یہ سفر چونکہ ہندوستان سے باہر کا ہے اس لئے اس وقت یہی ضرورت نہیں کہ قادیان کے لئے کوئی امیر مقرر کیا جائے بلکہ یہ ضرورت ہے کہ ایسا نائب مقرر کیا جائے جو سارے ہندوستان کی جماعتوں کے معاملات سے تعلق رکھتا ہو اور میں نے اس غرض کے لئے مولوی شیر علی صاحب کو تجویز کیا ہے۔وہ ایسے معاملات کے متعلق جو فوری اور ضروری ہوں اور جن کے متعلق مجھ سے مشورہ بذریعہ خط یا بذریعہ تار نہ لیا جا سکتا ہو فیصلہ کریں گے۔اور چونکہ یہ کام نہایت اہم ہے اور چونکہ خلیفہ اور نائب میں فرق ہے۔کیونکہ خلیفوں کے لئے تو خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ اللہ ان کی حفاظت کرتا ہے اور ایسے امور کی طرف ان کی رہنمائی کی جاتی ہے۔جن میں جماعت کی بہتری ہوتی ہے۔اور فرماتا ہے ان کا انتخاب خود خدا کرتا ہے گو بندوں کے ذریعہ ہی انتخاب ہوتا ہے۔مگر ان کی