خطبات محمود (جلد 8) — Page 446
446 طرح نماز ادا کرنے میں کئی ایسے ہوتے ہیں۔جن کا دل چاہتا ہے کہ لمبی نماز پڑھیں اور کوئی ایسے ہوتے ہیں۔جو چھوٹی نماز پڑھتے ہیں۔لیکن جماعت کے ساتھ سب کو سب کے ساتھ مل کر نماز پڑھنی پڑتی ہے اور اس سے آپس میں اتحاد پیدا ہوتا ہے اسی کی طرف رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے اس ارشاد میں اشارہ فرمایا ہے کہ صفیں سیدھی کرو۔ورنہ تمہارے دل ٹیڑھے ہو جائیں گے۔تو نماز باجماعت سے یہ بتایا کہ جو چیز ادنی ہو۔مل کر کام کرنے سے وہ بھی اعلیٰ نتائج پیدا کر سکتی ہے۔اور نماز با جماعت سے اتحاد پیدا ہو سکتا ہے۔اور جب اتفاق و اتحاد مضبوط ہو جائے تو اس کا لازمی نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ اور لوگ بھی آکر ہمارے ساتھ شامل ہونے لگتے ہیں۔اس کی مثال اس برف کے ٹکڑے کی طرح ہوتی ہیں۔جو پہاڑ سے گرتا ہے۔اور اس کے ساتھ اور برف راستہ میں شامل ہوتی جاتی ہے۔حتی کہ وہ اتنا بڑا بن جاتا ہے کہ پہاڑ کے دامن کے بعض گاؤں کو تباہ کر دیتا ہے۔بعض دفعہ وہ اتنا بڑا ہو گیا ہے کہ سو سو گاؤں کو دبا کر لے گیا ہے۔حالانکہ پہلے وہ ایک گیند جتنا ہوتا ہے لیکن گرتے گرتے اور برف کو اپنے ساتھ ملا کر بہت بڑا بن جاتا ہے قاعدہ یہ ہے کہ جتنا زیادہ اتحاد ہو۔اتنا ہی زیادہ دوسری چیزوں کو کشش کرتا ہے۔اس لئے جتنا ہم میں زیادہ اتحاد پیدا ہو گا اتنے ہی زیادہ لوگ ہماری طرف کھنچے چلے جائیں گے۔لکھا ہے جب ریل چل رہی ہو تو ساتھ چلنے والا بھی اس کے قریب ہوتا جاتا ہے کیونکہ اس کی رفتار کی کشش کھینچتی جاتی ہے۔اس طرح جو قومیں متحد ہوتی ہیں ، کرتی ہیں۔ان میں کشش ہوتی ہے اور وہ دوسرے لوگوں کو کھینچنا شروع کر دیتی ہیں۔تو فرمایا! جب متحد ہو جاؤ گے اور اپنے کاموں کو چھوڑ کر نماز باجماعت پڑھو گے تو کامیاب ہو جاؤ گے کیونکہ اس طرح جمع ہونے سے خدا تعالی کا جلال روشن ہو گا اور اس کا لازمی نتیجہ یہ ہو گا کہ تمہاری مخالفت کم ہوتی جائے گی اور تم کامیاب ہو جاؤ گے۔نماز میں یہ بہت بڑا سبق ہے اور اذان اس کی طرف اشارہ کرتی ہے۔مگر افسوس کہ بہت لوگ اس کی حقیقت کو نہیں سمجھتے۔کئی جگہ سے نماز با جماعت نہ پڑھنے کی شکایات آتی ہیں کسی جگہ کوئی شخص اس لئے جماعت کے ساتھ نماز پڑھنے کے لئے نہیں جاتا کہ امام صاحب سے اس کی لڑائی ہوتی ہے۔لیکن اذان میں تو موذن یہی کہتا ہے کہ خواہ کچھ ہو۔نماز باجماعت کے لئے آؤ کیونکہ اگر لڑائیوں اور جھگڑوں کی وجہ سے مسجدوں میں آنا چھوڑ دو گے۔تو اللہ تعالیٰ کی توحید دنیا میں قائم نہ ہو گی۔اور جب توحید قائم نہ ہو گی۔تو تم کامیاب بھی نہ ہو گے۔