خطبات محمود (جلد 8) — Page 447
447 ہماری جماعت کے دوستوں کو چاہیئے کہ اذان کی حکمت سے سبق سیکھیں اور سمجھیں کہ دوبارہ جو اللہ اکبر اللہ اکبر کہا جاتا ہے۔یہ تکرار کے لئے نہیں بلکہ یہ نتیجہ ہے نماز با جماعت کا جو بیان کیا جاتا ہے۔کیونکہ اس طرح توحید پھیلے گی اور جب توحید پھیلے گی۔تو ترقی اور کامیابی حاصل ہو گی اور اگر لوگ اس میں سست ہوں گے تو ان کے لئے تباہی اور بربادی ہوگی۔ہر ایک مسلمان کے لئے ضروری ہے کہ خواہ مسجد کا امام اس کا دشمن ہو تو بھی جائے اور یہ سمجھے کہ میں خدا کے لئے جاتا ہوں تاکہ اس کی توحید پھیلے اور اس کی بڑائی کا ذکر بلند ہو اس کا نتیجہ یہ ہو گا کہ تم کامیاب ہو جاؤ گے۔میں نے بارہا کہا ہے کہ نماز باجماعت نہایت ضروری ہے لیکن ابھی تک بہت جگہ سستی پائی جاتی ہے۔خوب اچھی طرح سن لو۔جب تک یہ ستی دور نہ ہو گی۔کامیابی نہ ہوگی۔بہت لوگ پوچھتے ہیں کہ ہماری ترقی کب ہو گی میں کہتا ہوں۔خدا کے نبی نے جن الفاظ کو ترقی کے گر کے طور پر رکھا ہے۔گو یہ الفاظ آپ کو نہیں بتائے گئے۔لیکن آپ کے لئے اور کو سکھائے گئے۔مگر چونکہ آپ ہی نے ان کو مقرر کیا ہے۔اس لئے آپ ہی کے ہیں۔ان میں ترقی کا گر نماز باجماعت کی پابندی بتایا گیا ہے۔جب تک اس گر پر عمل نہ ہو گا۔ترقی نہ ہوگی۔پس جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ کیوں ہماری جلد جلد ترقی نہیں ہوتی۔وہ اپنے نفس کو الزام دیں۔جو نماز با جماعت کی پابندی نہیں کرتا۔اور اپنی اس سستی اور کو تاہی کو دور کریں۔خدا تعالیٰ ہماری جماعت کو توفیق دے کہ وہ اسلام کے احکام پر عمل کرنے والی ہو۔اسلام کے مطابق ہمارے عمل ہوں اور ہمارا کھانا پینا، اٹھنا بیٹھنا، چلنا پھرنا، خلوت و جلوت سب اللہ تعالیٰ ہی کے لئے ہو جائے۔ایک دوست شیر زمان صاحب نائب تحصیلدار جو ایک عرصہ سے بیمار تھے۔اور بہت مخلص تھے۔ایسی جگہ رہتے تھے جہاں ایک بھی احمدی نہ تھا۔وہ فوت ہو گئے ہیں۔انہیں فوت ہوئے ایک ماہ کے قریب عرصہ ہو گیا۔میرا خیال تھا۔میں نے ان کا جنازہ پڑھا دیا ہے۔مگر اب معلوم ہوا ہے نہیں پڑھایا اس لئے آج پڑھاؤں گا۔اسی طرح ایک عورت بھی ایسی جگہ فوت ہو گئی ہے جہاں احمدی نہ تھے۔اس کا بھی جنازہ پڑھوں گا۔الفضل جولائی ۱۹۲۴ء) بخاری کتاب الصلوۃ باب تسوية الصفوف