خطبات محمود (جلد 8) — Page 44
44 دیگر مذاہب اور ان کی شاخوں کی دشمنی کے علاوہ وہ لوگ بھی ہمارے دشمن ہیں جو مسلم کہلاتے ہیں۔جب ہم ان کے سامنے حقیقی اسلام پیش کرتے ہیں تو بجائے اس کے کہ وہ اس سے خوش ہوں۔ہم سے لڑتے ہیں۔ان کی مثال ایسی ہی ہے کہ کسی گھر میں آگ لگی ہو۔کوئی شخص اس کو بجھانے جائے مگر وہ بجائے اس کا شکر گزار ہونے کے اس کو ڈنڈے مارے۔ان لوگوں نے وساوس کو اسلام سمجھ لیا ہے۔اس لئے اسلام سے ہزاروں لوگ مرتد ہوئے اور ہو رہے ہیں۔اللہ تعالیٰ نے اسلام اور مسلمانوں پر رحم کر کے اپنے جلال کے اظہار کے لئے ایک مامور کو بھیجا اور اس کے منہ میں اپنا کلام ڈالا اور اس کو اپنا نائب مقرر کر کے اپنے غلاموں کے لئے صلح کا پیغام بھیجا۔مگر کیا یہ اندھیر نہیں کہ آقا صلح کرنا چاہتا ہے مگر غلام اس کے مقابلہ میں تلوار اٹھاتے ہیں۔خدا نے اپنے غلاموں کی خطاؤں سے درگذر کیا اور فرمایا کہ میں تم پر رحم کرتا ہوں۔میں تمہیں مدد دوں گا مگر یہ غلام خدا کے فرستادہ سے لڑنے لگے۔ان کی مثال بالکل اس کے مطابق ہے کہ ایک شخص کے گھر میں آگ لگ گئی ہو اور اس کی مدد کے لئے جو شخص آئے اس سے وہ لڑنے لگ جائے۔پس یہ دو گروہ ہیں جو ہمارے مخالف ہیں یعنی ایک وہ لوگ جو آریہ عیسائی وغیرہ مذاہب میں شامل ہیں اور دوسرے وہ جو اپنے آپ کو اسلام کے پیرو بتاتے ہیں مگر ہمارا تیسرا دشمن ہمارا اپنا نفس ہے ہمیں اپنے نفسوں میں اصلاح کرنی ہے اور ان کے عیبوں اور نقصوں کو دور کرتا ہے اور پھر اسلام کے لئے وہ جوش پیدا کرنا ہے جو ہمیں خدمت کے لئے ہر دم تیار اور آمادہ رکھے۔کئی لوگ ہیں جو احمدی کہلاتے ہیں مگر ابھی ان میں اصلاح کی ضرورت ہے۔ہم نے ایک طرف تو عیسائیوں کو مسلمان بنانا ہے جن کے ایک لاکھ مبلغ اس وقت دنیا میں کام کر رہے ہیں جو بڑی بڑی تنخواہیں پاتے ہیں اور انہوں نے بڑی بڑی علوم کی ڈگریاں پائی ہوئی ہیں۔یہ ایسے لوگوں کی جماعت ہے جو فلسفہ ادب اور ڈاکٹری کی سندات رکھتے ہیں اور چھوٹے چھوٹے الگ ہیں۔پھر ہمارا ان سے مقابلہ ہے جن کی پشت پر چالیس کروڑ آبادی ہے جن میں اعلیٰ سے اعلیٰ قابلیت کے لوگ ہیں اور ہمارا اس ساری جماعت کے متعلق ارادہ ہے کہ ہم نے ان کو انشاء اللہ مسلمان بنانا ہے۔پھر ہندو ہیں۔وہ علم میں، دولت میں ، سیاست میں ہم سے بہت زیادہ ہیں۔گو حکومت اریا کے پاس نہیں سوائے اس کے کہ چندر جواڑے ہیں۔مگر ایک بات ان میں ایسی ہے جو عیسائیوں کے مقابلہ سے بھی مشکل ہے۔اور وہ یہ کہ ان میں قومی برتری کا احساس ہے۔وہ سمجھتے ہیں ہم سب سے بہتر ہیں۔ان کے برتن کو اگر کسی غیر مذہب کے آدمی کا ہاتھ لگ جائے تو وہ کہتے ہیں کہ ہمارا برتن بھرشٹ (ناپاک) ہو گیا ایک ہندو جس کے جسم کو نجاست لگی ہوئی ہو اور وہ اس قدر غلیظ ہو کہ