خطبات محمود (جلد 8) — Page 45
45 پچاس گز ڈور سے اس سے بو آتی ہو وہ ایک مسلمان کو جو نہایت پاک و صاف ہو۔پلید سمجھے گا اور پسند نہیں کرے گا کہ اس کے برتن کو وہ مسلمان ہاتھ لگا دے۔یہ خیال جو ہندوؤں میں پیدا کیا گیا ہے۔ایک دیوار ہے جس کا عبور کرنا آسان نہیں اور اس کی وجہ سے ہندوؤں میں تبلیغ ہونے میں روک ہے۔علاوہ ازیں ان کے پاس کوئی مستند شہادت نہیں کہ انبیاء سے خدا کا کیا معاملہ ہوتا ہے عیسائیوں کے پاس یہ شہادت ہے اس لئے ہم ان کو بتا سکتے ہیں مگر ہندوؤں کے پاس اس قسم کی کوئی روایت نہیں۔اور جو روایات ہیں ان میں پیغمبر کی بجائے اوتار کا مسئلہ ہے کہ خدا کا قائم مقام ہوتا ہے۔اور پھر وہ جو چاہے کرے۔ان کی روایات بھی عجیب قسم کی ہوتی ہیں۔مثلاً ان کے اوتاروں میں سے ایک نیل کنٹھ ہے جو ایک پرندہ ہے۔ان کی روایتوں میں آتا ہے کہ نیل کنٹھ ایک ہاتھی کو نگل گیا اور سارے دریا کا پانی پی گیا۔اور پھر نیل کنٹھ پرندہ ہی رہا۔یہ تو ان کے پرندے اوتار کا حال ہے۔اور جو آدمی اوتار ہوں ان کے متعلق تو جو کچھ کہیں کم ہے۔ایسے لوگوں میں تبلیغ کا کام بہت مشکل ہے۔وہ اس قسم کے جھوٹے اور بے سروپا معجزات بنا لیتے ہیں اور ان کو اس قدر ان پر وثوق ہوتا ہے کہ بچے معجزات ان کی نظر میں نہیں آتے اور ان کے لئے ان کا سمجھنا مشکل ہوتا اسی قسم کے ایک مسلمان جو میر محمد اسحاق صاحب کے رشتہ دار تھے۔یہاں آئے۔ان کو میر صاحب نے تبلیغ کی۔حضرت صاحب کے بعض معجزات سنائے۔مثلاً حضرت صاحب کے کپڑوں پر جو سرخی کے چھینٹے پڑنے کا معجزہ ہے۔اس کا ذکر کیا۔اس نے کہا یہ کیا اولیاء اللہ کے اس سے بڑے معجزات ہیں۔آپ جانتے ہیں کہ مکہ میں جو تربوز بکتے ہیں۔وہ کہاں سے آتے ہیں۔مکہ میں تو تربوز پیدا نہیں ہوتے۔اصل بات یہ ہے کہ بدو باہر سے پتھر بھر کر لاتے ہیں اور مکہ میں آکر یہ پتھر تربوز ہو جاتے ہیں۔یا مثلاً لیکھرام کی پیشگوئی کا معجزہ پیش کیا۔تو اس نے ایک قصہ یوں سنا دیا کہ ہمارے بزرگ جب عرب سے آئے تھے تو اس طرح آئے کہ جب جدہ سے جہاز تیار ہوا تو وہ اس پر سوار نہ ہوئے اور کہدیا کہ میں ٹھر کر آتا ہوں۔جہاز روانہ ہو گیا اور وہ پیچھے رہ گئے مگر وہ اپنی کھڑاؤں پہن کر سمندر پر چلتے ہوئے جہاز سے پہلے بمبئی پہنچ گئے (یہ کہتے ہوئے اسے یہ بات بھول گئی کہ ہمیئی تو انگریزوں کے وقت کا بسایا ہوا شہر ہے۔اس وقت کہاں موجود تھا) پھر وہ ایٹہ میں پہنچ گئے۔اور پھر کشمیر میں جامع مسجد کے امام نے کہا کہ بھائیو گھر جاؤ۔ایک جنازہ ہے۔لوگ حیران رہ گئے کہ جنازہ کہاں ہے۔بہر حال لوگ ٹھر گئے۔وہ وہاں آئے اور اسی وقت ان کی جان نکل گئی اور ان کا جنازہ پڑھا گیا۔غرض ایسے لوگوں میں بوجہ مجمول روایات کا پابند ہونے کے تبلیغ مشکل ہوتی ہے۔