خطبات محمود (جلد 8) — Page 434
434 مریکہ ہوتی ہے کہ تمام چیزوں سے لذت کھینچ کر ایک ہی لذت باقی رہ جاتی ہے۔اس کا یہ مطلب نہیں۔کہ کسی چیز میں مزا نہیں آتا نمکین چیز نمکین نہیں معلوم ہوتی۔اور میٹھی چیز میٹھی نہیں لگتی۔بلکہ یہ ہے کہ انسان ہر ایک چیز اس لئے کھاتا ہے۔کہ خدا نے حکم دیا ہے، مطلب تو دونوں کا حاصل ہو جاتا ہے، جو اس نیت سے کھاتا ہے کہ خدا کا حکم ہے، وہ بھی لذت حاصل کرتا ہے اور جو اپنے نفس کی خاطر کھاتا ہے، وہ بھی مزا پاتا ہے، اس لئے مجھے ہمیشہ تعجب آیا کرتا ہے۔نیت سے اتنا فرق پڑ جاتا ہے۔تو لوگ کیوں نیت نہیں بدل لیتے، اگر یہ نیت ہو کہ خدا نے کہا ہے اس لئے میں یہ کام کرتا ہوں، تو کیا مزا نہیں آئے گا ضرور آئے گا۔مگر یہ نیت کرنے والے کو دوہرا فائدہ ہو گا۔کیونکہ وہ میٹھا بھی کھائے گا اور عبادت بھی کرے گا خدا تعالٰی نے یہ جو فرمایا ہے۔الذين يذكرون اللہ قیاماً و قعوداً و على جنو بهم (ال عمران (۱۹۲) یہ انسان کی تین حالتیں ہوتی ہیں اور تینوں میں ذکر کرنے سے مراد یہ ہے کہ انسان ہر وقت خدا کو یاد کرتا رہتا ہے۔اگر کھڑا ہوتا ہے، تو بھی خدا کو یاد کرتا ہے، اگر بیٹھا ہوتا ہے تو بھی خدا کو یاد کرتا ہے، اگر لیٹا ہوتا ہے تو بھی خدا کو یاد کرتا ہے، اگر اس کا یہ مطلب ہو کہ مقررہ عبادت میں لگا رہتا ہے، تو پھر اور کام کس وقت کرتا ہے ، مگر یہ ناممکن ہے، ہاں اگر وہ ہر ایک کام اس لئے کرے کہ خدا نے کہا ہے تو جو کام کھڑا ہو کر کرتا ہے، وہ بھی عبادت ہے جو بیٹھ کر کرتا ہے، وہ بھی عبادت ہے اور اگر سونے کے لئے لیٹ جاتا ہے، تو وہ بھی عبادت ہے، اگر ایک تاجر اس نیت سے کام کرتا ہے کہ خدا نے کہا ہے کسب معاش کرو تو اس وجہ سے اسے گھاٹا نہیں ہوتا، بلکہ جس طرح کسی اور کو نفع ہو گا اسے بھی ہو گا مگر نیت بدل جانے کی وجہ سے اس کا یہ کام عبادت ہو جائے گی اسی طرح اگر کوئی سوتا ہے اور اس لئے سوتا ہے کہ خدا نے رات آرام کے لئے بنائی ہے، تو ساری رات اس کی عبادت سمجھی جائے گی، یہ ہے مطلب کھڑے، بیٹھے، اور لیٹے خدا کو یاد کرنے کا اور یہ ہے کامل توحید کہ کوئی کام انسان کا اپنا نہیں رہتا، یہ جو رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا ہے، ہر کام سے پہلے بسم اللہ الرحمن الرحیم پڑھ لیا کرو ورنہ وہ کام تباہ ہو جائے گا۔اس کا بھی یہی مفہوم ہے کہ یہ نیت کر لیا کرو کہ خدا کی خاطر میں یہ کام کرتا ہوں، ورنہ بسم اللہ الرحمن الرحیم پڑھنے کا اور کیا تعلق ہو سکتا ہے۔اس میں نیت کی درستی کی طرف توجہ دلائی گئی ہے۔جب ایک مسلمان یہ اقرار کرتا ہے کہ لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ تو اس کا کچھ فائدہ نہیں ہو سکتا۔جب تک اس کے تمام اعمال میں توحید نہ جاری ہو جائے، جب تک اٹھتے بیٹھتے ، چلتے پھرتے