خطبات محمود (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 340 of 558

خطبات محمود (جلد 8) — Page 340

340 جمع نہیں ہو سکتی۔لیکن یہ بات غلط ہے۔کیونکہ غیرت بدی سے نفرت کرنے اور جدا رہنے کا نام ہے اور وسعت حوصلہ بد کو اپنی طرف کھینچ کر نیک بنانے کا نام ہے۔دونوں ایک ہی وقت میں جمع ہو سکتی ہیں۔ان میں مخالفت اور مغائرت نہیں۔غیرت اپنے محل اور وقت پر نیکی میں داخل ہے۔لیکن بہت لوگ معترض ہوتے ہیں۔مجھے اس مضمون پر خطبہ پڑھنے کی یہ وجہ ہوئی کہ چند لوگوں نے جماعت میں فتنہ ڈالنا چاہا تھا۔میں نے ان کو سزا دی اور جماعت سے خارج کر دیا اور ان سے تعلق رکھنا منع کر دیا۔مگر افسوس ہے کہ قادیان میں بھی ہیں پچھتیں آدمیوں کی نسبت رپورٹ پہنچی جنہوں نے لیکچر اور تعلقات قطع کرنے کا حکم سنا اور پھر تعلقات رکھے۔آج ہی ایک آدمی کا خط آیا ہے۔جس کو میں اس سے پیشتر دانشمند سمجھتا تھا کہ محفوظ الحق یہاں آیا اور اس نے مصافحہ کے لئے ہاتھ بڑھایا۔میں مصافحہ سے انکار نہیں کر سکا اور یہ بھی لکھا کہ باقی جماعت برابر کلام کرتی ہے۔یہ وہی بات ہے۔ماں سے زیادہ چاہیے پھاپھا کٹنی کہلائے۔خدا سے زیادہ تعلق اور محبت کا دعویٰ کسی انسان کا ہر گز صحیح نہیں اور میں یہ قطعاً تسلیم کرنے کو تیار نہیں میں نے وہ سلوک اپنی آنکھوں دیکھتے ہیں۔جو لوگ ایک دوسرے سے کرتے ہیں۔اور جو سگے بھائی بھائیوں سے اور باپ بیٹے سے اور بیٹا باپ سے کرتا ہے۔میں نے غیر احمدیوں کے آپس کے سلوک اور عیسائیوں ہندوؤں اور سکھوں کے سلوک دیکھے ہیں اور پھر احمدیوں کے آپس کے تعلقات دیکھے ہیں۔میں دیانتداری سے کہہ سکتا ہوں کہ لوگوں کے لئے جو اخلاص اور محبت میرے دل میں میرے اس مقام پر ہونے کی وجہ سے جس پر خدا نے مجھے کھڑا کیا ہے اور جو ہمدردی اور رحم میں اپنے دل میں پاتا ہوں۔وہ نہ باپ کو بیٹے سے ہے اور نہ بیٹے کو باپ سے ہو سکتا ہے۔اور پھر میں اپنے دل کی محبت پر انبیاء کی محبت کو قیاس کرتا ہوں۔جیسے ہم جگنو کی چمک پر سورج کو قیاس کر سکتے ہیں۔تو میں ان کی محبت اور اخلاص کو حد سے بڑھا ہوا پاتا ہوں۔مگر جو کہے کہ میں ان سے کہیں زیادہ خیر خواہ اور ہمدرد ہوں وہ جھوٹا ہے۔اس کی وہی مثال ہے۔”ماں سے زیادہ چاہے بھا پھا کٹنی کہلائے۔ان سے بڑھ کر محبت باپ بیٹے کے تعلقات میں بھی نہیں ہو سکتی۔وسعت حوصلہ اور غیرت ایک وقت میں جمع ہو سکتے ہیں۔مخالف اور نقیض نہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا واقعہ لکھا ہے کہ آپ لاہور تشریف لے گئے آپ ایک جگہ کھڑے تھے کہ پنڈت لیکھرام آگیا۔ہندو لوگ بڑے آدمیوں کا لحاظ کرتے ہیں۔گو ان کے مخالف ہی ہوں۔لیکھرام نے آپ کے سامنے ہو کر سلام کیا۔آپ نے دوسری طرف منہ پھیر لیا۔وہ دوبارہ جواب کے لئے