خطبات محمود (جلد 8) — Page 326
326 میں وہ طوفان بے تمیزی برپا کیا کہ اس کو دیکھ کر حیرت ہوتی تھی۔اس بارے میں ہمیں بھی ترکوں سے ہمدردی تھی۔اس لئے کہ ہمارے نزدیک ترکوں سے وہ سلوک نہیں کیا گیا تھا۔جو دوسرے مفتوحین سے کیا گیا۔ہمارے نزدیک دوسرے مفتوحوں کے مقابلہ میں ترکوں سے زیادہ سختی کی گئی تھی۔اور وہ محض اس لئے تھی کہ ترک مسلمان تھے۔گو آسٹریا ہے بھی سختی کی گئی تھی۔مگر وہ سختی جو ترکوں سے کی گئی تھی۔زیادہ تھی کیونکہ آسٹریا کے علاقے آزاد تھے۔اور آزاد ہونا چاہتے تھے۔مگر ترکوں کے ماتحت جو علاقے تھے۔ان سے نہیں پوچھا گیا تھا کہ تم ترکوں کے ماتحت رہنا چاہتے ہو یا نہیں۔انہیں انگریزوں اور امریکنوں اور فرانسیسیوں نے جبراً ترکوں سے علیحدہ کر لیا۔اگر ان علاقوں سے پوچھا جاتا۔تو ان میں کتنے ہی ترکوں کے ماتحت رہنے کو پسند کرتے۔جن علاقوں نے اپنی رائے کا اظہار کیا۔ان کی سنی نہ گئی۔پھر آسٹریا کا جو کچھ باقی رکھا گیا وہ آزاد تھا۔لیکن ترکوں کو جو آزادی دی گئی۔وہ برائے نام تھی۔اور چار پانچ طاقتوں کا ان پر تسلط تھا۔پس ترکوں کے متعلق اس فیصلہ سے مذہبی تعصب کی بو آتی تھی۔ہم نے فاتحین کے اس فیصلہ کے متعلق اس طریق پر کام کیا اور توجہ دلائی جو رعایا کے لئے ضروری ہے۔اور جس طرح توجہ دلانا ہمارا حق تھا کہ ترکوں کے ساتھ وہ کیا جائے۔جو سیاسی طور پر ضروری ہے۔نہ یہ کہ ان کے ساتھ فیصلہ میں مذہبی تعصب کو دخل دیا جائے۔بعد میں اس کے مطابق فیصلہ ہوا۔اور یہ مان لیا گیا کہ پہلے صلح نامے میں سختی تھی۔اور ضروری تھا کہ اس میں تبدیلی کی جائے۔لیکن باوجود اس کے وہ لوگ ہمیں بزدل اور خوشامدی کہنے لگے جو باوجود ترک سلطان کو اپنا خلیفہ سمجھنے کے اس کے خلاف لڑنے کے لئے گئے تھے اگر ہم ترکوں کے سلطان کو اپنا خلیفہ مان کر اس سے لڑنے جاتے۔تو یہ ہماری بے غیرتی انگریزوں کی خوشامد اور انگریزوں کے مقابلہ میں بزدلی ہوتی۔مگر جب یہ بات نہ تھی۔تو خوشامد اور بزدلی کیسی؟ ہم تو ترکوں کے ساتھ لڑنے کے لئے اس لئے نکلے کہ وہ ہمارے خلیفہ نہ تھے اور ان سے لڑنے میں ہمارے لئے کوئی مذہبی روک نہ تھی۔مگر غصہ میں انسان سوچتا نہیں۔اور وہ لوگ جن پر الزام آتا تھا۔غصہ میں آکر ہمیں الزام دینے لگے۔اسی غصہ کی حالت میں ایک غلط راستہ اختیار کر لیا گیا۔ابتدا میں ترکوں کے خلاف فیصلہ کے متعلق سوچنے کے لئے دو جلسے کئے گئے۔اور ان دونوں جلسوں میں مجھے بلایا گیا۔میں جانتا تھا کہ ذاتی طور پر ان جلسوں میں میرا شامل ہونا غیر ضروری ہے۔کیونکہ جس امر کے متعلق پہلے سے فیصلہ کر لیا جائے۔اس میں لوگوں کو بلا کر مشورہ کرنے کے معنے بجز اس کے کچھ نہیں کہ لوگوں کو اپنے