خطبات محمود (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 212 of 558

خطبات محمود (جلد 8) — Page 212

212 نجات کا موجب سمجھتا ہے جس کے متعلق اسے یقین ہے کہ اس کے بغیر ترقی ناممکن ہے جس کو وہ خدا تعالیٰ کی طرف سے قرار دیتا ہے اس کے متعلق یہ معاہدہ کرے گا کہ میں اس کی اشاعت نہیں کروں گا۔اس سے بڑھ کر بد گمانی اور کیا ہو سکتی ہے کیونکہ اس بات کو سمجھتے ہوئے کہ اس مذہب کے بغیر ترقی ناممکن ہے اس کے بغیر نجات نہیں ہو سکتی۔دنیا اسی کے ذریعہ تباہیوں اور بربادیوں سے بچ سکتی ہے کس طرح ممکن ہے کوئی یہ امید دلائے کہ وہ اس مذہب کی تبلیغ نہیں کرے گا اور کس طرح ممکن ہے کہ دوسرے لوگ کسی کو خاص عقیدہ کا پیرو مانتے ہوئے اس سے یہ امید رکھیں۔کیا کوئی کسی کو کہہ سکتا ہے کہ کل تم نے کہا تھا میں اپنے بیوی بچوں کے سرکاٹ کر تمہارے پاس لاؤں گے مگر تم نہیں لائے اور جب وہ کہے کہ میں نے کہا تھا تو وہ کہے شاید مجھے غلط فہمی ہو گئی ہوگی۔تم نے کچھ اور کہا ہو گا۔اگر یہ نہیں کوئی کہہ سکتا اور اس قسم کی غلط فہمی نہیں ہو سکتی تو اس تحریک، متعلق کس طرح اسی قسم کی غلط امید قائم کی جا سکتی ہے جو بیوی بچوں سے زیادہ پیاری اور زیادہ ت ہے۔مذہب کے مقابلہ میں بیوی بچے یا مال و جائداد یا اپنی جان کی اتنی بھی حقیقت نہیں جتنی چیونٹی کی ہوتی ہے۔پس اگر اس چیز کے متعلق جو دین کے مقابلہ میں چیونٹی سے بھی حقیر ہے کوئی قربانی کی امید نہیں رکھ سکتا تو یہ خیال کس طرح کر لیا گیا کہ ہم نے اقرار کر لیا ہے یا کرنا چاہتے ہیں کہ اپنے مذہب کی تبلیغ چھوڑ دیں گے۔یہ کبھی نہیں ہو سکتا۔اور اس پر کبھی صلح کی بنیاد نہیں رکھی جا سکتی۔کیا دو آدمیوں میں اس امر پر صلح کی بنیاد رکھی جا سکتی ہے کہ دونوں زہر کھا کر مر جائیں جب مرگئے تو پھر صلح کس کام کی اور جو شخص یہ کہتا ہے کہ میں اپنے دین کی تبلیغ چھوڑ دوں گا وہ روحانی طور پر مر جاتا ہے اور خدا تعالی کے حضور ملعون اور لعنتی گھر جاتا ہے اس کو صلح کیا فائدہ دے سکتی ہے۔پس کیا ہم اپنے ایمانوں کو جن کی قیمت ہم ساری دنیا سے بھی زیادہ سمجھتے ہیں اس لئے قربان کر سکتے ہیں کہ ملکانوں کو جو دین کا نام تک نہیں جانتے ان کی پہلی رسوم پر قائم رکھیں۔میں حیران ہوں ان لوگوں کی عقلوں پر جو یہ خیال رکھتے ہیں کہ ہم نے اس قسم کا وعدہ کیا ہے کہ ہم اپنے مذہب کی تبلیغ چھوڑ دیں گے۔میں ایسے لوگوں کو ہوشیار کرنا چاہتا ہوں اور کھول کر بتا دینا چاہتا ہوں کہ ہم نے اس قسم کا نہ کوئی وعدہ کیا ہے اور نہ کر سکتے ہیں۔خواہ اس کے بدلے میں ساری دنیا بھی مل جائے۔لمکانے تو الگ رہے۔اگر ساری دنیا کے کافر بھی اگر کہیں کہ ہم مسلمان ہوتے ہیں تم اپنے مذہب کی کوئی تعلیم چھوڑ دو۔تو بھی ہم کبھی نہ مانیں گے۔کیونکہ دین کے معاملہ میں سب سے پہلے اپنے دین اور اپنے ایمان کی فکر ضروری ہوتی ہے۔اور یہ ہو نہیں سکتا کہ ساری دنیا کے لئے ہم اپنا ایمان برباد کر لیں۔اگر ہزار آدمی بھی ایک شخص کے جھوٹ بولنے سے مسلمان ہوتا ہے تو شریعت اس شخص کو ہرگز اجازت نہ دے گی کہ جھوٹ بول لے۔اسی طرح اگر ساری دنیا اس شرط پر مسلمان