خطبات محمود (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 211 of 558

خطبات محمود (جلد 8) — Page 211

211 36 فتنہ شدھی اور جماعت احمدیہ (فرموده ۵ / اکتوبر ۱۹۲۳ء) تشہد و تعوذ اور سورہ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور نے فرمایا۔فتنہ ارتداد کے شروع ہونے پر میں نے بعض اعلانات اس قسم کے کئے تھے کہ اس وقت مسلمانوں کو دشمن کا مقابلہ مل کر کرنا چاہیے کیونکہ دشمن کا یہ حملہ اس قسم کا حملہ ہے کہ اگر فوراً اور ابھی سے اس کی روک تھام نہ کی گئی تو نتیجہ یہ ہوگا کہ اسلام کا رعب داب جو دنیا پر دیر سے جما ہوا ہے اس کو نقصان پہنچے گا۔اور دشمن کو اسلام کی عمارت میں نقب زنی کا موقع مل جائے گا۔اور اگر ایک قوم ہزاروں کی تعداد میں بلا روک ٹوک اور بلا مقابلہ دشمنوں میں چلی جائے۔تو خواہ وہ کیسی ہی گری ہوئی قوم کیوں نہ ہو۔اسلام کے نام پر دھبہ لگے گا اور پھر یہی نہیں بلکہ اور بہت سی قومیں تیار ہو جائیں گی کہ اسلام کو چھوڑ کر چلی جائیں۔میرا مطلب اس اعلان سے کیا تھا وہ ہمارے طریق عمل نے ظاہر کر دیا ہے اور جس رنگ میں ہم نے اپنی طرف سے مل کر کام کرنے کی کوشش کی ہے باجود مخالفین کی طرف سے رستہ میں روڑے اٹکانے کے وہ اس بات کو اچھی طرح ظاہر کرتی ہے کہ ہماری نیت شروع سے یہی تھی کہ مل کر کام کریں۔اتفاق اور اتحاد سے کام ہو اور میدان عمل میں ایک دوسرے کا مقابلہ اور مخالفت نہ کی جائے۔لیکن میں دیکھتا ہوں کہ بعض لوگ غلطی سے میرے اعلانات سے ایسا مطلب اخذ کر رہے ہیں جو میرا نہیں تھا اور ہم سے ایسی امید رکھتے ہیں جو کوئی عقل مند کسی عقل مند سے نہیں رکھ سکتا۔بعض لوگ اس اتحاد کے معنے یہ لیتے ہیں کہ ہمیں آئندہ سلسلہ احمدیہ کی تبلیغ بالکل چھوڑ دینی چاہیے اور اپنے مذہب کی اشاعت نہیں کرنی چاہئیے۔میرے نزدیک کسی ایسے شخص سے جو کسی مذہب کو سچا اور نجات کا ذریعہ سمجھتا ہو یہ امید رکھنا کہ وہ کسی غرض کے لئے اپنے مذہب کی تبلیغ چھوڑ دے گا اس امر کا ثبوت ہے کہ یا تو جو ایسی امید رکھتا ہے وہ پاگل اور مجنون ہے اور یا جو اس قسم کا وعدہ دیتا ہے وہ جھوٹا اور مکار ہے یا مجنون ہے۔یہ خیال کرنا کہ ایک شخص جس مذہب کو اپنی