خطبات محمود (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 163 of 558

خطبات محمود (جلد 8) — Page 163

163 کسی کو بد قسمت نہیں بنا تا سارے بندے اس کے ہیں۔پھر وہ کسی کو بد قسمت کیوں بناتا اور سارا قرآن کریم اس بات سے بھرا پڑا ہے کہ ہر ایک کو خدا نے خوش قسمت بنایا ہے۔آگے انسان خود اپنے آپ کو خوش قسمت ثابت کرتا ہے اور خود ہی اپنے آپ کو بد قسمت ٹھہراتا ہے۔ورنہ ترقی کرنے والا انسان نہ اس قسمت کی وجہ سے ترقی کرتا ہے جو خدا کی طرف سے مقرر ہوتی ہے۔اور نہ تنزل کرنے والا اس قسمت کی وجہ سے تنزل کرتا ہے بلکہ دونوں میں سے ایک کی کامیابی اور دوسرے کی ناکامی کا راز اپنی اپنی کوششوں میں ہوتا ہے جو شخص ترقی کرتا ہے وہ اس لئے کرتا ہے کہ اپنے فرائض کو سمجھتا ہے۔اور جو شخص تنزل کے گڑھے میں گرتا ہے۔وہ اس لئے کرتا ہے کہ اپنے فرائض اور ذمہ داریوں کو نہیں سمجھتا۔اگر کوئی شخص عقل اور اعلیٰ حافظہ رکھتا ہے تو کس کام کا کا؟ اگر اسے صحیح طور پر استعمال نہیں کرتا۔بعض شاعر لکھتے ہیں اور بہت خوب لکھتے ہیں کہ دنیا کے باغ میں بہت سے پھول ایسے کھلتے ہیں کہ اگر وہ اپنی خوبصورتی اور شادابی دکھا سکیں تو لوگ ان پر لٹو ہو جائیں اور وہ لوگ جو دنیا میں شہرت حاصل کئے ہوتے ہیں ان کے سامنے ماند پڑ جائیں یعنی دنیا میں ایسے لوگ پیدا ہوتے ہیں کہ جن کو اگر کام کرنے کا موقع ملتا اور وہ کچھ کر کے دکھا سکتے تو بڑے بڑے مشہور لیڈر اور شہرت یافتہ لوگ ان کے سامنے حقیر ہو جاتے۔مگر شہرت پانے والوں اور ان میں فرق یہ ہے کہ ان کو کام کرنے کا موقع نہ ملا اور دوسروں کو موقع مل گیا اس لئے یہ تو زمین میں پوشیدہ پڑے رہے اور وہ آسمان کے ستارے بن گئے۔یہ ایک لطیف مضمون ہے مگر اس سے بھی زیادہ وضاحت کے ساتھ یہ بات کہی جا سکتی ہے کہ دنیا میں بہت سے ایسے لوگ جو اعلیٰ قابلیتیں رکھتے ہیں گمنام اس لئے نہیں رہتے کہ انہیں اپنی لیاقت دکھانے کا موقع نہیں ملتا بلکہ اس لئے گمنام رہتے ہیں کہ ان کو یہ معلوم نہیں ہوتا کہ اپنی طاقتوں کو کس طرح خرچ کریں یا کس محل پر خرچ کریں اور ایسے وجود ان کی نسبت بہت زیادہ ہوتے ہیں جن کو موقع نہیں ملا ہوتا۔مگر میں کہتا ہوں کہ موقع نکالنا بھی تو انسان کی اپنی طاقت میں ہے۔اور جو اپنی طاقت سے کام نہیں لیتا اسے طاقت کیا فائدہ دے سکتی ہے۔دیکھو سوئے ہوئے کو جگانا آسان ہے مگر جاگتے کو جگانا بہت مشکل ہے۔پس جس کو خدا نے طاقتیں دی ہوں وہ اگر ان کو استعمال نہیں کرتا تو اس کو بلند مقام پر کھڑا کرنا کسی انسان کی طاقت میں نہیں ہے۔تو بہت لوگ اس لئے دنیا میں ناکام نہیں رہتے کہ ان کو کام کرنے کا موقع نہیں ملتا بلکہ اس لئے ناکام رہتے ہیں کہ وہ اپنی لیاقت کا استعمال نہیں جانتے اور اپنی ذمہ دارویوں سے آگاہ نہیں ہوتے اگر وہ اپنی ذمہ دارویوں اور کام کی حقیقت کو سمجھ لیں تو کامیاب ہو جائیں لیکن چونکہ سمجھتے نہیں اس لئے نا کام ہوتے ہیں۔مومنوں کی ناکامی کی وجہ بھی یہی ہوتی ہے ان میں ایمان ہوتا ہے ان کو سچا دین اور صداقت مل جاتی