خطبات محمود (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 159 of 558

خطبات محمود (جلد 8) — Page 159

159 ہیں وہ پوری نہیں ہوتی۔پھر وہ انسان جس کی اور باتوں میں دعا نہیں سنی جاتی وہ تو اپنے دل میں سوال کرتا ہے کہ کیا بات ہے میری فلاں دعا منظور نہیں ہوئی۔اور اس کا ذکر دوسروں سے بھی کرتا ہے۔مگر اس امر کی شکایت کبھی میرے پاس نہیں پہنچی۔یا اس قدر قلیل پہنچی ہے جو شاذو نادر کا حکم رکھتی ہے۔اس لئے میں سمجھتا ہوں یہ سوال ہی لوگوں کے دلوں میں پیدا نہیں ہوتا کہ اھدنا الصراط المستقيم کی دعا کیوں قبول نہیں ہوتی۔اب سوال یہ ہے کہ کیوں یہ سوال نہیں پیدا ہوتا۔میرے نزدیک اس کا وہی حل ہے جو پہلے بیان کیا ہے۔ایک پیا سا جب پانی مانگتا ہے اور نہیں ملتا تو وہ کیا کرتا ہے۔چڑتا ہے۔اور ناراض ہوتا ہے۔کہتا ہے اتنی دیر سے پانی مانگ رہا ہوں کیوں نہیں دیا جاتا۔ایک بھو کا جو بھوک سے مر رہا ہو۔کیا مانگتا ہی چلا جاتا ہے۔نہیں۔بلکہ جب اسے کھانے کو کچھ نہیں ملتا تو ناراض ہوتا ہے۔دیکھو ایک بچہ جب گھر آتا ہے تو وہ ماں باپ پر حاکم نہیں ہوتا۔کچھ کمانے والا نہیں ہوتا۔اور ظاہر حالات کو اگر دیکھا جائے تو ماں باپ کے صدقہ کھانا کھاتا ہے مگر جب مانگتا ہے۔اور اسے کھانے کے لئے کچھ نہیں ملتا تو ناراض ہوتا ہے۔کیوں؟ اس لئے کہ بھوک کی خواہش اسے یاد دلاتی ہے کہ میں ابھی پوری نہیں ہوئی۔اور جب تک پوری نہیں ہو جاتی اس وقت تک اسے چین نہیں لینے دیتی۔اس کے مقابلہ میں ایک شخص رستہ میں چلا جاتا ہے۔اسے کوئی بچہ ملتا ہے۔اور وہ اسے پیار کرنا چاہتا ہے لیکن بچہ اس سے منہ پھیر لیتا ہے۔اس پر وہ بھی منہ پھیر کر آگے چلا جاتا ہے۔اور کوئی خیال ابھا نے دن میں پیدا نہیں ہوتا۔وجہ یہ کہ اس شخص کو بچہ سے پیار کرنے کی کچی خواہش نہ تھی بلکہ چلتے چلتے ایک چیز نے سامنے اگر جھوٹی خواہش اس کے دل میں پیدا کر دی تھی اگر اس کے دل میں کچی خواہش ہوتی تو جب تک وہ پوری نہ ہوتی۔اسے دکھ اور تکلیف ہوتی۔اسی طرح جبکہ ایک مسلمان نمازوں میں کہتا ہے اهدنا الصراط المستقیم اور یہ پوری نہیں ہوتی مگر اس کے دل میں درد اور گھبراہٹ نہیں پیدا ہوتی تو اس کی کیا وجہ ہے۔بچہ کے پیدا ہونے کے لئے جب دعائیں کرتا ہے اور وہ قبول نہ ہوں تو ناراض ہو کر کہتا ہے کیوں میری دعا قبول نہیں ہوتی۔اور وہ جو ہدایت ملنے کی دعا قبول نہ ہونے پر تسلی پا جاتا ہے۔وہ بچہ کے متعلق قبول نہ ہونے پر تسلی نہیں پاتا۔اسی طرح جس کا بچہ بیمار ہو وہ اس کی صحت کے لئے دعا کرتا ہے اور جب پوری نہ ہو تو دوسروں سے کراتا ہے۔اور بعض دفعہ یہاں تک بھی کہہ دیتا ہے کہ خدا دعا قبول ہی نہیں کرتا۔اس سے اس کا یہ مطلب نہیں ہوتا کہ وہ خدا کو نہیں مانتا بلکہ یہ ہوتا ہے کہ بچہ کی طرح ناراضگی ظاہر کر رہا ہوتا ہے۔جیسا کہ بچہ کو بھوک لگی ہو۔اور اس کے مانگنے پر اسے کھانے کو کچھ نہ ملے۔یا حسب منشا نہ ملے۔تو پھر کہادیتا ہے کہ اب میں نہیں کھاتا۔اسی طرح وہ شخص کرتا