خطبات محمود (جلد 8) — Page 135
135 خواہش انسان میں کیوں رکھی ہے۔ہم کہیں گے خدا تعالیٰ کی صفات اس کی مقتضی ہیں۔پھر اگر کے خدا کی صفات کیوں مقتضی ہیں تو ہم کہیں گے یہ ایسی ہستی کے متعلق سوال ہے کہ جس کی کنہ کو پانا ہمارا کام نہیں۔صوفیا تو اس سے بھی آگے جائیں گے۔مگر عام انسانوں کا دائرہ سوال اس جگہ ختم ہو جائے گا اور ہم اسے کہیں گے یہ خدا تعالیٰ کی ذات کے متعلق سوال ہے اور خدا تعالیٰ کی ذات کا احاطہ کرنا انسانی طاقت میں نہیں ہے۔اسے مثالیں دیں گے اور سمجھائیں گے کہ جب تم دنیا کی چیزوں کی کنہ نہیں پا سکتے تو خدا تعالیٰ کی کنہ کس طرح پاسکتے ہو اور اس کی ذات کا کس طرح احاطہ کر سکتے ہو۔غرض ایک مقام پر اس سلسلہ سوال کو روکنا پڑے گا۔اس میں شبہ نہیں کہ ایک حد تک کیوں چلے گا اور اس کا جواب دینا ضروری ہوگا۔اگر بالکل روک دیا جائے گا تو لوگ جاہل رہ جائیں گے۔علم النفس والے یہ سوال اٹھاتے ہیں کہ بچہ اتنا کیوں اور کس طرح اور کیا۔کیوں کہتا ہے اور جتنا بچہ اس لفظ کا استعمال کرتا ہے اتنا بڑا آدمی نہیں کرتا۔اس کا وہ یہ جواب دیتے ہیں کہ ہر اجنبی چیز کی طرف انسان متوجہ ہوتا ہے اور اس کی حقیقت معلوم کرنا چاہتا ہے۔بڑوں کے لئے چونکہ اتنی چیزیں اجنبی نہیں ہوتیں جتنی بچوں کے لئے ہوتی ہیں۔اس لئے بچوں کو کیوں اور کیا کے ذریعہ دریافت کرنی پڑتی ہیں۔ایک مذہبی آدمی اس کا یہ جواب دے گا کہ یہ حس بچے میں خدا تعالی نے اس لئے رکھی ہے کہ وہ ترقی کرے۔اگر بچپن میں بچہ اس طرح سوال نہ کرتا۔تو بڑا ہو کر علوم میں ترقی نہ کر سکتا۔غرض کیوں۔کیا۔کدھر کس طرف کیسا وغیرہ ایسے سوال ہیں جو انسانی فطرت میں رکھے گئے ہیں اور ان کا زور بچپن میں زیادہ ہوتا ہے یا پھر علم سیکھنے کے وقت اور یہ سوال انسانی ترقی کے لئے ضروری ہوتے ہیں۔پس یہ کہنا کہ کیوں کیوں کہتے ہو یہ درست نہیں ہے۔بے شک کسی حد تک کیوں بھی ناجائز ہو جاتا ہے مگر ایک حد تک اس کا چلانا ضروری ہے۔پس سوال یہ ہے کہ ہم کیوں مسلمان بنیں میرے نزدیک اس کا کوئی اجمالی جواب دیتا سوائے ایک جواب کے ممکن ہی نہیں۔اور وہ جواب یہ ہے کہ ہم مسلم اس لئے دوسروں سے بہتر ہیں کہ ہم مسلم ہیں۔اس سوال کے جواب میں لمبی تقریر کر سکتے ہیں کہ اسلام میں یہ خوبی ہے اور یہ فضیلت ہے لیکن مختصر اور صحیح جواب نہی ہے کہ ہم دوسرے مذاہب کے لوگوں سے اس لئے بہتر ہیں کہ ہم مسلم ہیں اور دوسرے مسلم نہیں ہیں۔اس کے متعلق کوئی کہہ سکتا ہے کہ مسلم تو اپنا نام رکھ لیا گیا ہے اور صرف اپنا کوئی نام رکھ لینے سے انسان دوسروں سے اچھا ہو سکتا ہے۔ہم نے صرف اپنا نام مسلم نہیں رکھا بلکہ جب ہم اپنے آپ کو مسلم کہتے ہیں تو اس کا یہ مطلب ہوتا ہے کہ ہم خدا تعالیٰ کے سارے حکموں کو مانتے ہیں اور دوسرے مذہب والے سارے حکموں کو نہیں مانتے۔بے شک ایک غیر مسلم کہہ سکتا ہے کہ تم میں بھی خدا کے حکموں کو نہ مانے والے موجود ہیں ہم کہیں گے بے شک مسلمان کہلانے والے بھی