خطبات محمود (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 136 of 558

خطبات محمود (جلد 8) — Page 136

136 ایسے ہیں لیکن اگر کوئی خدا تعالیٰ کے سب حکموں کو مان سکتا ہے تو مسلم ہی مان سکتا ہے اور مسلم کے لئے ہی امکان ہے کہ مانے۔مگر تمہارے متعلق امکان بھی نہیں۔اس کی مثال ایسی ہی ہے کہ دو مسافر ایسے سفر پر جا رہے ہوں جہاں پانی نہ ملتا ہو۔ان میں سے ایک کے پاس پانی ہے اور دور سرے کے پاس نہیں۔جس کے پاس ہے وہ دوسرے سے کسے تم نے غلطی کی کہ پانی ساتھ نہیں لائے۔وہ کے اگر میں نہیں لایا تو تم بھی تو نہیں پی رہے۔اس پر وہ کہہ سکتا ہے میرے پاس تو پانی موجود ہے جب ضرورت ہوگی پی لوں گا۔مگر تم نہیں پی سکو گے۔تو غیر مسلم کی اگر نیت بھی ہو کہ خدا کے سارے حکموں کو مانے تو غیر مسلم رہ کر خدا تعالیٰ کا پورا پورا فرمانبردار نہیں بن سکتا۔اور جو مسلم ہے وہ گو کہتا ہے کہ میں مسلم ہوں اور بعض دفعہ نہیں ہوتا۔مگر مسلم ہو سکتا ہے اس لئے ایک مسلم اور غیر مسلم میں یہ فرق ہے پس مسلم کی یہ تعریف ہے کہ اپنے رب کا پورا پورا فرمانبردار اور مسلم کے سوا کسی اور کے لئے ممکن ہی نہیں کہ ایسا ہو کیونکہ تمام احکام کامل طور پر یر کسی مذہب میں ہیں ہی نہیں اور جب کامل احکام ہی نہیں ہیں تو خواہ کوئی کتنی محنت اور کتنی کوشش کرے۔خدا تعالی کا فرمانبردار بننے میں ایک مسلم کے برابر نہیں ہو سکتا۔اس کی مثال ایسی ہی ہے جیسے ایک شخص کے گھر میں گھوڑا ہو اور دوسرے کے ہاں نہ ہو۔یوں پھرنے میں تو دنوں برابر ہوں گے۔مگر گھوڑے والے کو جب ضرورت ہوگی تو وہ گھوڑا لیکر چل سکتا ہے۔مگر دوسرا اس کے برابر نہیں چل سکتا جب تک کسی سے گھوڑا مانگے نہیں۔اسی طرح ایک غیر مسلم خدا تعالیٰ کی فرمانبرداری کے رستہ پر مسلم کے برابر نہیں چل سکتا جب تک کہ مسلمان سے کا سامان مانگے نہیں۔اور جب مانگے گا تو مسلمان ہو گا۔یہ فرق ہے غیر مسلم اور مسلم میں۔مگر یہ تو غیر کے سوال کا جواب ہے۔تمہارے اپنے متعلق یہ سوال ہے کہ کیا تم مسلم ہو یا نہیں۔کیا جب تم دوسروں سے اس لئے لڑتے ہو کہ ہم مسلم ہیں اور تمہیں دلائل کے ساتھ لڑنا چاہئیے اور لوگوں کو بتانا چاہیے کہ اسلام سب سے اعلیٰ مذہب ہے۔تو یہ سوال پیدا ہوتا ہے اور پیدا ہونا چاہئیے کہ کیا واقع میں تم مسلم ہو۔اگر مسلم نہیں ہو تو کو مانا کہ ہم مسلم ہیں۔اس لئے دوسروں سے افضل ہیں۔نفس کہے گا کہ یہ سوال غلط طریق سے اٹھایا گیا ہے۔یہ اس طرح نہیں کہنا چاہیے تھا کہ ہم چونکہ مسلم ہیں اس لئے دوسروں سے افضل ہیں بلکہ یوں کہنا چاہیئے تھا کہ اگر ہم مسلم ہیں تو دوسروں سے افضل ہیں کیونکہ مسلم کہلانا صرف دعوئی ہے اور جب تک اس کا کوئی ثبوت نہ ہو اس وقت تک کوئی کس طرح افضل ہو سکتا ہے۔لوگ جانتے ہیں کہ طبیب علاج کرتے ہیں اور لوگوں کو فائدہ ہوتا ہے۔مگر کیا ہر شخص جو اپنے آپ کو طبیب کے اسے طبیب مان لیا جاتا ہے۔کہتے ہیں ایک طبیب جب قبرستان میں سے گذرتا تو اپنا منہ ڈھانک لیتا۔کسی نے کہا لوگ تو زندوں سے شرم کرتے ہیں